خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 425

خطابات شوری جلد دوم ۴۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء مذہب اس کی تمدنی زندگی کے لئے قانون بناتا ہے، ہرگز اس قابل نہیں ہوتی کہ اسے اپنے ملک میں رہنے دیا جائے۔پھر وہ لکھتا ہے مذہب کا تعلق محض عقائد سے ہے، اس کا ہماری عملی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اور میں نے اپنی کتاب میں وہاں نوٹ لکھا ہے کہ سچا عیسائی یہی شخص ہے کیونکہ عیسائیت کہتی ہے کہ شریعت لعنت ہے۔باقی عیسائی اس تعلیم کو سُنتے اور شریعت پر پھر بھی کچھ نہ کچھ عمل کرتے رہتے ہیں لیکن ہٹلر کہتا ہے کہ شریعت کا نہ سیاست سے کوئی تعلق ہے نہ عملی زندگی سے۔پھر وہ بحث کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہودیوں کے مذہب نے انہیں ایک تفصیلی قانون دیا ہے۔پس جس قوم کے اندر بھی یہ قوم مل کر رہے گی اُس کی ترقی بہر حال رُک جائے گی۔اسی طرح اس نے رومن کیتھولک والوں کا بھی ذکر کیا ہے، پراٹسٹنٹ کا بھی اور کہتا ہے کہ یہ بھی بیوقوف ہیں کیونکہ یہ بھی مذہبی اعمال کی دخل اندازی کو تسلیم کرتے ہیں۔پھر وہ تنظیم کا ذکر کرتا ہے اور لکھتا ہے کہ ہر وہ قوم جس کا کوئی مذہب مرکز کی حکومت سے باہر ہے ہرگز اس حکومت میں رہنے کے قابل نہیں۔اب بتاؤ یہ قو میں احمدیت کو کب اچھی نگاہ سے دیکھ سکتی ہیں۔احمدیت تو بات بات پر کہتی ہے کہ فلاں امر شریعت کے خلاف ہے اور فلاں امر شریعت کے مطابق۔پس ان قوموں کی ترقی یقیناً اسلامی اور احمدی نقطہ نگاہ سے دُنیا کے لئے بے حد خطرناک ہے اور اب تو یہ قو میں اس قدر ترقی کر چکی ہیں کہ دُنیا کے ڈر کے مارے اوسان خطا ہو رہے ہیں۔یہ کھلے بندوں دھمکی دیتے ہیں اور کوئی اُن کے مقابلہ میں حرکت نہیں کرتا۔ایسا رعب دلوں پر چھایا ہوا ہے کہ جو کچھ چاہتے ہیں کر لیتے ہیں۔البانیہ چھوڑ معمولی معمولی قلعوں پر پہلے لڑائیاں شروع ہو جایا کرتی تھیں مگر اب بڑے بڑے علاقے اپنے قبضہ میں کر لئے جاتے ہیں اور کوئی مقابلہ کے لئے نہیں اُٹھ سکتا۔چیکوسلو و یکیہ کی ۹۵ لاکھ کی آبادی ہے جس پر ہٹلر نے قبضہ جمایا۔اگر ان ۹۵ لاکھ آدمیوں میں جرات ہوتی اور ان پر ہٹلر کا رُعب چھایا ہوا نہ ہوتا تو یہ جرمنی کا سالہا سال مقابلہ کر سکتے تھے مگر اُنہوں نے ایک دن بھی مقابلہ نہ کیا اور ہتھیار ڈال دیئے اور اب تو ان کا طریق ہی یہ ہو گیا ہے کہ وہ پہلے اعلان کر دیتے ہیں کہ اگر ہمارا مقابلہ کیا گیا تو فوجی کارروائی کی جائے گی اور طاقت وقوت کو استعمال میں لایا جائے گا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی مقابلہ کی ہمت نہیں کرتا اور وہ ملکوں کے ملک اپنے قبضہ