خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 424

۴۲۴ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء اور مکہ والوں کے اونٹ اس کے سپاہی پکڑ کر لے گئے تو ابرہہ نے عبد المطلب کو بلایا اور کچھ باتیں کرنے کے بعد ان کی عقل سے متاثر ہو کر کہا کہ آپ مجھ سے کچھ مانگیں۔عبدالمطلب نے کہا کہ میرے چند اونٹ آپ کے سپاہی پکڑ کر لے آئے ہیں آپ اگر میرے اونٹ واپس کر دیں تو میں آپ کا ممنون ہوں گا۔ابرہہ کہنے لگا تم نے اپنے اونٹوں کا سوال کر دیا مگر تمہیں اپنے مکہ کا کوئی خیال نہیں آیا۔تمہیں تو چاہئے تھا کہ میرے پاس یہ درخواست کرتے کہ مکہ پر میں حملہ نہ کروں، بجائے اس کے تم یہ درخواست کرتے کہ اونٹ واپس کئے جائیں۔عبدالمطلب کہنے لگے میں اپنے اونٹوں کا مالک ہوں اور مجھے ان کا فکر۔بیٹ اللہ کا بھی ایک مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا، مجھے اس کا فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے یا یہی جواب زیادہ سے زیادہ مسلمان دے سکتے ہیں، اس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔تو اس قسم کے خطرناک حالات دُنیا میں رونما ہورہے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے اپنی زندگی قائم رکھنا بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔مصطفے کمال نے بے شک جبری طور پر اسلام کی بہت سی تعلیمیں اُڑا دیں مگر اُس نے کم سے کم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام تو رہنے دیا لیکن ہے۔اگر اٹلی اور جرمنی والے آجائیں تو وہ اسلام کا نام بھی باقی رہنا پسند نہ کریں گے۔آج سے ۱۲ دن پہلے حکومت اٹلی نے اعلان کیا تھا کہ لوگ یونہی جھوٹی افواہیں اُڑا رہے ہیں کہ ہم البانیہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ہمارا البانیہ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔لیکن اِس اعلان پر ابھی ۱۲ دن ہی گزرے ہیں کہ اٹلی نے واقعہ میں البانیہ پر قبضہ کر لیا ہے۔اسی طرح ایک دفعہ جب ٹرکی کے ساتھ اٹلی کے تعلقات کشیدہ تھے تو اٹلی کے پرائم منسٹر نے اعلان کیا کہ ہمارے لڑکی سے اتنے اچھے تعلقات ہیں کہ اس قدر اچھے تعلقات آج پہلے کبھی نہیں ہوئے۔یہ اعلان ہوگا اور اس اعلان کے تیسرے دن بعد اٹلی نے لڑکی پر حملہ کر دیا تو یہ وہ لوگ ہیں کہ جہاں جہاں ان کا بس چلے گا وہاں اسلام کو مٹانے کی کوشش کریں گے۔انگریز ہزار بُرے سہی لیکن ان میں یہ مادہ ہے کہ وہ مذہب کے معاملہ میں کم سے کم دخل اندازی کرتے ہیں اور اس لحاظ سے انگریز اٹلی اور جرمنی سے بہتر ہیں۔میں نے ہٹلر کی کتاب پڑھی ہے۔وہ ایک مقام پر اس میں لکھتا ہے کہ وہ قوم جس کا