خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 423
خطابات شوری جلد دوم ۴۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء ہے اور اُن پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اگر ہماری جماعت ان حالات میں بھی اپنی آنکھیں نہیں کھولے گی اور جماعت کی مضبوطی کے لئے کوشش نہیں کرے گی تو اس کے لئے زمانہ کی رفتار کا مقابلہ کرتے ہوئے ترقی کرنا بالکل ناممکن ہو جائے گا۔یورپین طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کو کچلنے کے لئے بڑھتی چلی آ رہی ہیں اور ہم جنہیں خدا تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کے لئے کھڑا کیا ہے اس بات پر مجبور ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لئے اپنی جماعت کو مضبوط کریں۔یہ خطرات کوئی خیالی نہیں حال میں البانیہ پر اٹلی نے جو قبضہ کیا ہے اس کا صاف یہ مطلب ہے کہ اس کی پالیسی یہ ہے کہ آہستہ آہستہ مسلمانوں کو بالکل ختم کر دیا جائے۔اور ان کی کوئی حکومت باقی نہ رہے اور یہ قطعی اور یقینی بات ہے۔میں نے اکثر کتابیں پڑھی ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ اٹلی یقینی طور پر ٹرکی ، فلسطین اور سیریا کو لینا چاہتا ہے اور اگر شام اور فلسطین وغیرہ اس کے قبضہ میں آجائیں تو عرب کے لئے کون سی حفاظت رہ سکتی ہے۔اور اگر مکہ پر بھی عِيَاداً بِاللہ گولہ باری شروع کر دی جائے تو مسلمان اس کے بچاؤ کا کیا انتظام کر سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا خیال گو اللہ تعالیٰ کی طاقتوں اور قدرتوں کو دیکھتے ہوئے بے وقوفی ہو لیکن سچی بات یہی ہے کہ اگر اٹلی مکہ پر بھی گولہ باری کرتا اور اس کی ایک ایک اینٹ گر جاتی تو بھی مسلمان سوائے اس کے اور کچھ نہ کرتے کہ گھر بیٹھ کر اٹلی والوں پر کفر کا فتویٰ لگا دیتے۔یہ محض مسلمانوں کا رُعب ہی ہے جو دوسری اقوام کو اس قسم کی حرکات سے باز رکھتا ہے اور وہ خیال کرتی ہیں کہ اگر ہم نے اس مقام پر حملہ کیا تو مسلمان اپنی مجموعی قوت سے ہمارا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے، ورنہ مسلمانوں کی اندرونی حالت اس قسم کے مقابلہ کی قطعاً تاب نہیں رکھتی۔ابرہہ کے مقابلہ میں عبدالمطلب کا رد عمل یا اگر زیادہ سے زیادہ کرسکیں تو وہ وہی کریں گے جو عبدالمطلب نے کیا۔اُس وقت بھی مکہ پر حملہ کرنے والے اٹلی والے ہی تھے۔یہ نہیں کہ وہ اٹلی کے رہنے والے تھے بلکہ ابر ہہ جس نے حملہ کیا تھا اتھوپیا کے بادشاہ کا نائب تھا اور اتھوپیا یا ابی سینیا کا علاقہ گو براہ راست اٹلی کے ماتحت نہ تھا مگر اٹلی کے زیر سلطنت تھا۔ابرہہ نے جب حملہ کیا