خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 421
خطابات شوری جلد دوم ۴۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء چنانچہ اسے منظور کر لینے کے حق میں ۲۳۱ اور خلاف ۴۹ آراء تھیں۔حضور نے فرمایا کہ:- ”میرے نزدیک تائیدی آراء بے بنیاد ہیں۔پچھلا تجربہ یہی ہے کہ نہ جماعت نے اتنی آمد دینی ہے اور نہ اتنا خرچ پورا ہو گا لیکن چونکہ کثرتِ رائے یہی ہے اس لئے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جماعتیں اس بات کی ذمہ دار ہیں کہ اتنی آمد کر کے دیں۔کمی صرف اکیس ہزار کی ہے اور اتنی بڑی جماعت کے لئے اتنی رقم بڑھا دینا کوئی بڑی بات نہیں۔اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی فیصلہ کرتا ہوں کہ انجمن اس بجٹ میں سے اصل اخراجات سے پندرہ ہزار کم کر کے میرے پیش سامنے کرے جس کی میں منظوری دوں گا۔مجھے افسوس ہے کہ باوجود اس علم کے کہ اتنی رقم جمع ہونی مشکل ہے اور اخراجات بھی بڑھنے لازمی ہیں مثلاً اگر گریڈ وغیرہ جاری رہے تو اخراجات کی زیادتی لازمی ہے لیکن انجمن کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ یہ روپیہ کہاں سے آئے گا۔پھر بعض ادائیگیاں لازمی ہیں لیکن ان کو قطعاً کوئی خبر ہی نہیں کہ وہ کس طرح ادا ہوں گی۔ہر ناظر یہی کوشش کرتا ہے کہ اُس کا خرچ پورا کر دیا جائے ، باقی جائیں چولہے میں۔اس سال جو رپورٹیں آ رہی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعات پچھلے سال کی نسبت زیادہ خطرناک صورت میں موجود ہیں لیکن انجمن کو کوئی خیال نہیں۔تنخواہوں میں جو تخفیف کی گئی ہے اس کے متعلق یہ سوال تھا کہ وہ قرضہ سمجھا جائے یا تخفیف؟ اور میں نے کہا تھا کہ یہ سوال شوری میں پیش کیا جائے۔میری رائے یہی تھی کہ سارا بوجھ کارکنوں پر ہی نہیں پڑنا چاہئے لیکن انجمن نے فیصلہ کر دیا کہ اسے شوری میں پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اسے قرضہ ہی سمجھ لیا جائے۔انجمن نے پہلے یہ معاملہ میرے پیش سامنے کیا اور جب میں نے کہا کہ اسے شوریٰ میں پیش کیا جائے تو اس کے صاف معنے تھے کہ میں بھی اس کے متعلق خود فیصلہ نہیں کرتا۔پھر میں نے یہ رائے بھی ظاہر کر دی تھی کہ میں سارا بوجھ کارکنوں پر ڈالنا نہیں چاہتا۔اس کے صاف معنے تھے کہ کچھ نہ کچھ ان پر بھی پڑنا چاہئے اور جس طرح دوسرے کچھ بوجھ اُٹھائیں کا رکن بھی اُٹھا ئیں۔یہ ایک پیچیدہ معاملہ تھا اور میں نے اسے شوریٰ میں پیش کرنے کو کہا تھا لیکن انجمن نے ان سب باتوں کو نظر انداز کر کے فیصلہ کر دیا اور کہہ دیا کہ اسے شوریٰ میں