خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 416
خطابات شوری جلد دوم ۴۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی ایک مثال موجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص نے وصیت کی۔اُس نے لکھا کہ میں اپنی آمد کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ میرے پاس کوئی جائیداد نہیں لیکن ساتھ لکھا ہے کہ میرے پاس صرف ایک چھوٹا سا مکان مع فلاں فلاں سامان ہے۔اُس شخص کی آمد اور ترکہ کی وصیت کو جائز قرار دیا گیا۔جس سے صاف معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں معمولی اشیاء کو جن پر گزارہ کا مدار نہ ہو، وصیت کے معاملہ میں جائیداد نہیں قرار دیا جاتا تھا۔پس میں نے جائیداد کا یہ معیار قرار دیا تھا کہ جس پر موصی کا گزارہ ہو رہا ہو۔جس کے پاس ایسی جائیداد نہ ہو وہ اُسی مال سے وصیت کرے گا جس پر اس کا گزارہ ہے خواہ تنخواہ ہو یا عطیہ یا وظیفہ۔مثلاً میں اپنے بچوں کو الاؤنس دیتا ہوں۔وہ اس میں وصیت کریں۔یا بریکاروں کو گورنمنٹ کی طرف سے وظائف ملتے ہیں یا ہماری انجمن کی طرف سے وظائف دیئے جاتے ہیں، وہ اُن کے مطابق وصیت کر سکتے ہیں۔اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ پھر وہ کون لوگ رہ جائیں گے جن کی کوئی جائیداد نہیں؟ تو یہ وہ لوگ ہوں گے جن کا گزارہ دوسروں پر ہے۔مثلاً ایک شخص دوسرے کے گھر میں رہتا ہے اور وہیں سے کھانا کھاتا ہے تو اس کے لئے تیسرا حکم ہوگا کہ چونکہ مالی لحاظ سے اس کا تجز یہ نہیں ہوسکتا تو اس کی خدمت دین کو دیکھ لیا جائے کہ وقت کی اور جانی قربانی کیا کرتا ہے۔تو یہ تین شقیں تھیں جب ان سب پر بحث ہو گئی تو میں نہیں سمجھ سکا کہ اب اس کی بحث کی کیا ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ قطعاً اجازت نہیں دی کہ اتنی رقم والا اس قبرستان میں دفن ہو اور اتنی رقم والا نہ ہو۔مگر یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ گزارہ کی حد بندی ہم نہیں کریں گے۔خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو، اس میں وصیت ہو سکے گی بشرطیکہ صحیح اندازہ بتایا گیا ہو۔اگر ایک شخص کی تین روپے آمدنی ہے اور اس میں سے وہ پانچ آ نہ ہم کو لا دیتا ہے تو اس کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ وہ مخلص نہیں ، وہ سو روپے والے سے زیادہ مخلص ہے کیونکہ وہ دس روپے دے کر بھی باقی رقم سے اپنے تعیش کا سامان کر سکتا ہے۔پس ہم کو کوئی حق نہیں کہ ہم کسی کم آمدنی والے کی