خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 413
خطابات شوری جلد دوم ۴۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء ”ایسے“ کا لفظ دلالت کرتا ہے کہ وحی خفی نے شرائط بیان نہیں کیں۔یہاں پر یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ایسے قبرستان کے لئے یہ شرائط لگا دیئے جائیں۔یعنی وحی خفی شرائط کا لگانا ضروری قرار دیتی ہے، شرائط کو معتین نہیں کرتی۔مگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو شرطیں لگائی ہیں ہم اُن کو یونہی نظر انداز کر دیں۔بعض وقتی تحریکیں پیدا ہو جاتی ہیں وہ مستقل اصولوں سے ٹکراتی نہیں۔شریعت میں بھی بعض احکام وقتی طور پر پیدا ہو جاتے ہیں۔حضرت عمر نے فرمایا کہ آئندہ جو تین طلاق یکدفعہ دے گا اُس کو میں جُدا کر دوں گا، حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن سے یہ ثابت نہیں۔تو جب کوئی جز وی حکم کسی اصولی حکم کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہو تو اُس وقت وقتی طور پر اس کوملحوظ رکھا جائے گا۔پس میرے نزدیک ان شرائط کا وحی خفی کے ماتحت نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کو نظر انداز کر دیں۔اس کے بعد میں اصلی مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات بیان کرتا ہوں۔یہ تو ظاہر ہے کہ مقبرہ بہشتی کی غرض روپیہ حاصل کرنا نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے:۔اور ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا ہوئی۔اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔تو قبرستان کا خیال ان شرائط کے بنانے سے پہلے ہوا اور اس کے بعد ایک تحریک پیدا اب اخویم مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی وفات کے بعد جبکہ میری وفات کی نسبت متواتر وحی الہی ہوئی ، میں نے مناسب سمجھا کہ قبرستان کا جلدی انتظام کیا جائے۔‘۱۲ تو یہ الہامات اور مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات اس تحریک کو پورا کرنے کا محرک ہو گئے۔اس پر حضور نے کیا کیا۔اس لئے میں نے اپنی ملکیت کی زمین جو ہمارے باغ کے قریب ہے جس کی قیمت ہزار روپیہ سے کم نہیں، اس کام کے لئے تجویز کی