خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 412

۴۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خطابات شوری جلد دوم میں رپورٹ پیش ہوئی کہ وصیت کے لئے ” جائیداد کا معیار مقرر ہونا چاہئے، بعض نمائندگان نے اس تجویز کے حق میں اور بعض نے مخالفت میں اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا۔رائے شماری سے قبل حضور نے چند امور کی وضاحت ضروری خیال کرتے ہوئے فرمایا :- ’ دوستوں کے سامنے سب کمیٹی کی رپورٹ آ چکی ہے۔پہلے سوال یہ در پیش ہے کہ جائیداد کا معیار ہونا چاہئے۔میں دفتر الوصیت سے یہ دریافت کرتا ہوں کہ آیا یہ قانون پاس ہو چکا ہے کہ آمد کی وصیت ضروری ہے اور جو شخص جائیداد کی وصیت کرے اُس کی آمد کی وصیت بھی لازمی ہے۔“ اس پر رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء صفحہ ۸۹ حضور کی خدمت میں پیش کی گئی جس میں آمد کی وصیت کو بھی ضروری قرار دیا گیا تھا۔اس پر حضور نے فرمایا : - میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال ایسا ہے کہ جس کے متعلق رائے لینے سے پہلے میں اپنے خیالات کا اظہار کر دوں۔اس بارے میں میرے نزدیک بہت سی غلط فہمیاں ہوئی ہیں اور بہت سی غلط فہمیوں کا امکان ہے اِس لئے میں غیر معمولی طور پر اپنی عادت کے خلاف پہلے اپنی رائے کا اظہار کرتا ہوں۔مگر یہ میری رائے ہوگی فیصلہ نہ ہوگا پہلے بھی میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے بھی یہ ثابت ہے کہ مشورہ سے پہلے حضور نے بعض دفعہ اپنی رائے کا اظہار فرمایا۔پس اس بات سے دوسروں پر کوئی بُرا اثر نہیں ہونا چاہئے۔مومن جس چیز کو درست سمجھتا ہے وہی رائے دیتا ہے۔- میرے نزدیک جو بات میر صاحب ( محترم میر محمد الحق صاحب ) نے بیان کی ہے کہ یہ شرطیں وحی خفی سے ہوئی ہیں ثابت نہیں ہوتی۔وصیت کی عبارت سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وحی خفی نے آپ کو یہ توجہ دلائی ہے کہ کچھ شرطیں ہونی چاہئیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:- اس لئے خدا نے میرا دل اپنی وحی خفی سے اس طرف مائل کیا کہ ایسے قبرستان کے لئے ایسے شرائط لگا دیئے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہوسکیں جو اپنے صدق اور راستبازی کی وجہ سے ان شرائط کے پابند ہوں۔