خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 411
خطابات شوریٰ جلد دوم ۴۱۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء صورت میں اس میں غرباء تعلیم نہیں پاسکیں گے تو میری طبیعت پر اس کا الٹا اثر پڑتا ہے کہ اس سے ہم ایک اعلیٰ نظام کو تباہ کرتے ہیں۔یہ ایسی بات ہے کہ فلاں منافق کے لئے ایک صحابی کی قربانی کی جاوے۔ہم بلغ ما انزل اليك کے لئے جو تعلیم جاری کرتے ہیں، اس کے لئے ہم یہ قربانی نہیں کر سکتے اور یہ بہت معیوب بات ہے کہ اگر ہم میں غرباء کی ہمدردی ہے تو انہیں انگریزی سکول میں امداد دے کر پڑھا لیں۔اس سکول کی ترقی کو محض اس لئے روکنا کہ غرباء اس میں تعلیم نہیں پاسکیں گے بہت نا مناسب ہے اور غلط طریق ہے۔یا تو یہ معیار ہوتا کہ غرباء میں سے مبلغ ہو سکتے ہیں تو پھر یہ کہنا صحیح ہوسکتا تھا لیکن اگر یہ معیار نہیں بلکہ ہر طبقہ میں مبلغ بننے کی قابلیت ہوتی ہے تو پھر یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم چند غرباء کی خاطر محکمہ تبلیغ قربان کر دیں۔میں جب اِس دلیل کو سنتا ہوں تو میرے دل کو ٹھیس لگتی ہے اور میں کہتا ہوں کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس معیار کو بہت جلد تبدیل کر دیں۔میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ہمارے لڑکے کچھ نہ کچھ تو ناکام رہتے ہیں اور اس صورت میں یہ کسی کام کے نہیں رہتے کیونکہ چوتھی جماعت والے کو کوئی کام نہیں ملتا لیکن مڈل پاس کو پھر بھی کچھ کام مل ہی جاتا ہے۔لائل پور میں مالی تک کے لئے یہ شرط ہے کہ کم سے کم مڈل پاس ہو۔پس سر دست تو جولڑ کا اس مدرسہ کو چھوڑ جائے وہ بالکل ہی ناکام رہتا ہے۔اگر کم سے کم مڈل ہوگا تو کوئی اور کام تو کر لے گا۔اس سے نیچے کا تعلیمی معیار رکھنا تو ظلم ہے۔اب اس سے تجربہ کے طور پر دو تین سال تک امتحان کر لیا جائے۔اور یہ بات غلط ہے کہ انٹرنس پاس کی صورت میں لڑکے نہ آئیں گے۔بہر حال فوری طور پر تبدیلی کرنا بھی بعض اوقات نقصان دہ اور خطرناک ہوتا ہے اس لئے میں مڈل پاس کا فیصلہ کرتا ہوں اور ہیڈ ماسٹر صاحب اس کا فوری طور پر انتظام کر لیں۔اس سال پہلی جماعت میں مڈل پاس طلباء داخل ہوں۔یہ لڑکے اینگلو ور نیکر ہوں یعنی انگریزی مڈل پاس ہوں۔“ وصیت کے لئے جائیداد کے معیار کی تعیین سب کمیٹی بہشتی مقبرہ کی طرف سے مجلس مشاورت کے اجلاس