خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 406

خطابات شوری جلد دوم ۴۰۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء ایک حد تک پورا ہو جاتا ہے اور جہاں جماعتیں بڑی ہوتی ہیں وہاں یہ نقص زیادہ ہے اس لئے میرے نزدیک دو دنوں میں زیادہ مکمل طور پر کام کرنا چاہئے ، میں ان لوگوں سے متفق ہوں اس کی اصل غرض ایک رو چلانا ہے اور تبلیغ کا جوش پیدا کرنا ہے۔اگر ہر ایک فرد کی نگرانی کی جائے اور پورا انتظام کیا جائے تو سارے کے سارے لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔چنانچہ جب یہ دن آتا ہے تو غیر احمدی اور دوسرے لوگ ناراض ہوتے ہیں، حالانکہ آگے پیچھے وہ ناراض نہیں ہوتے صرف ان موقعوں پر وہ ناراض ہوتے ہیں۔پس اس کی خوبیاں اور خامیاں بالکل جدا گانہ ہیں۔میرے نزدیک دو دن چار سے زیادہ فائدہ مند ہیں۔اس کی اصل غرض تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس میں زیادہ زور مجموعی طاقت کے دکھانے کا ہے اور جماعت سے ہر فرد کا تعاون کرانا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ دو دنوں پر ایک اور دن بڑھا دیا یوم پیشوایان مذاہب می جائے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دیرینہ خواہش پوری کرنے کے لئے ہو کہ تمام لوگوں کو دعوت دی جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں یا اپنے مذہب کے بانی کے حالات اس موقع پر بیان کریں۔پس ایک دن سال میں اور بڑھا دیا جائے جس میں تمام مذاہب والوں کو دعوت دی جائے ، ہندوؤں اور عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو۔اس میں ایک فائدہ یہ ہوگا کہ ہمارے لوگ اسلامی نقطہ نگاہ کو اچھی طرح پیش کر سکیں گے اور آہستہ آہستہ یہ بات عام ہو جائے گی کہ احمدیت کے دلائل زیادہ مفید اور غالب ہیں۔اس موقع پر نہ صرف مذہبی خوبیاں ہی بیان ہوں بلکہ سیرت کے مضامین بھی لئے جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت مسیح ، کرشن اور حضرت مسیح موعود کی سیرت کے مضامین بیان ہوں۔موجودہ جلسہ سیرت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت بیان ہوتی ہے لیکن ایسے جلسے میں ہر مذہب کے اُس بانی کی خوبیاں بیان کی جائیں جو الہام کا مدعی ہو۔فیصلہ پس میں دو دنوں کی بجائے ایک دن بڑھاتا ہوں لیکن اس مخصوص غرض کے لئے کہ اُس دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقرر کردہ تجویز کے مطابق مختلف مذاہب کے مامور مدعیان کے حالات بیان کئے جائیں۔“