خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 27

خطابات شوری جلد دوم ۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء تھے۔یہ تو گندگی اور نجاست ہے جسے زمانہ کی اس مجبوری کی وجہ سے کہ آریوں اور عیسائیوں نے اس قسم کے لوگ رکھے ہوئے ہیں جن کا مقصد اسلام کو نقصان پہنچانا ہے، ان کے مقابلہ کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جس وقت کوئی شخص پاخانہ میں بیٹھتا ہے تو وہ اُس کا بہترین وقت ہوتا ہے؟ وہ تو مجبوری کا وقت ہوتا ہے۔اسی طرح تبلیغ کے لئے ایسا انتظام تو ایک مصیبت ہے اور مجبوری ہے پس مبلغوں کو اس حقیقت کو سمجھنا چاہئے کہ گزارہ لینے میں عیب نہیں مگر گزارہ کے لئے کام کرنا عیب ہے۔مبلغ وہ ہے کہ اُسے کچھ ملے یا نہ ملے اُس کا فرض ہے کہ تبلیغ کا کام کرے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو ایک دن وہ کپڑے کی گٹھڑی لے کر بیچنے کے لئے چل پڑے اس پر صحابہ نے کہا اگر آپ نے یہ کام جاری رکھا تو خلافت کے فرائض کس طرح ادا ہوں گے؟ اِس پر اُنہوں نے کہا میں پھر گزارہ کیونکر کروں؟ صحابہ نے کہا ہم آپ کے لئے وظیفہ مقرر کر دیتے ہیں۔یہ گزارہ ایسا نہ تھا کہ اگر نہ ملتا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دین کی خدمات سرانجام نہ دیتے وہ پھر بھی اُسی طرح کام کرتے۔پس ایسے مبلغ رکھنے چاہئیں جن میں نیکی ہو، تقویٰ ہو، جو دین کی خدمت تنخواہ کی خاطر نہ کریں بلکہ تنخواہ اس لئے لیں کہ دین کی خدمت کر سکیں۔ایک شخص جو اس وقت مبلغ نہ تھا مگر اب اُسے بطور مبلغ رکھ لیا گیا ہے اُس کے متعلق ایک مخلص نے بیان کیا کہ ایک مقدمہ تھا جس میں اُس کے رشتہ دار کی غلطی تھی مگر باوجود اس کے اُس نے تائید کی۔جب اسے کہا گیا کہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا تو کہنے لگا اس طرح دنیا نہیں چل سکتی۔پرانے مبلغ مثلاً مولوی غلام رسول صاحب وزیر آبادی، مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ، مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری انہوں نے ایسے وقتوں میں کام کیا جبکہ ان کی کوئی مدد نہ کی جاتی تھی اور اس کام کی وجہ سے ان کی کوئی آمد نہ تھی۔اس طرح انہوں نے قربانی کا عملی ثبوت پیش کر کے بتا دیا کہ وہ دین کی خدمت بغیر کسی معاوضہ کے کر سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اگر ان کی آخری عمر میں گزارے دیئے جائیں تو اس سے ان کی خدمات حقیر نہیں ہو جاتیں بلکہ گزارہ کو ان کے مقابلہ میں حقیر سمجھا جاتا ہے کیونکہ جس قدر ان کی امداد کرنی چاہئے اتنی ہم نہیں کر رہے مگر جو نو جوان ہیں ان کو اپنے ماحول کے مطابق اپنے آپ کو بنانا