خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 400
۴۰۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خطابات شوریٰ جلد دوم نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو چراغاں کرایا وہ ایک سیاسی مصلحت پر مبنی تھا اور اسی طرح بعض اوقات آپ ہمیں آتش بازی بھی لے دیا کرتے تھے تا کہ بچوں کا دل خوش ہو اور فرمایا کرتے تھے کہ گندھک کے جلنے سے جراثیم ہلاک ہو جاتے ہیں۔چنانچہ آپ نے کئی دفعہ ہمیں انار اور پھلجڑیاں وغیرہ منگوا کر دیں۔گو یہ ایک قسم کا ضیاع ہے مگر اس میں وقتی فائدہ بھی ہے گو ایسا نمایاں نہیں مگر اس سے بچوں کا دل خوش ہو جاتا تھا اور بچوں کے جذبات کو دبانے سے جو نقصان پہنچ سکتا ہے اس سے بچاؤ ہو جا تا تھا مگر آپ نے ساری جماعت کو آتشبازی چلانے کا حکم نہیں دیا۔اسی طرح آپ نے اگر کسی مصلحت کے ماتحت چراغاں کیا تو اس کے یہ معنے نہیں کہ اب یہ ضروری ہو گیا۔یہاں تو سوال یہ ہے کہ مذہبی طور پر جو تقریب منائی جائے کیا اس پر یہ جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو دنیوی بادشاہوں کے جشن کی خوشی کے موقع پر ایسا کیا تھا لیکن اب جو کیا جائے ، یہ ایک مذہبی تقریب ہوگی۔میری خلافت کی جو بلی جو منائی جارہی ہے یہ کوئی انفرادی تقریب نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ میں نظام سلسلہ کی ایک کڑی ہوں اور میرے خلیفہ ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ مجلس بھی جماعت کی نمائندہ ہے اس لئے رو پید ایسے طور پر خرچ کرنا چاہیئے کہ ضائع نہ ہو اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ حیوانی جذبات پورے کرنے کا سامان نہ ہو۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے اندر کشش رکھتی ہیں اور چراغاں بھی ایسی ہی چیزوں میں سے ایک ہے۔شادی بیاہ کے مواقع پر لوگ چراغاں کرتے ہیں اور اس موقع پر اس کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔مہمان آئے ہوئے ہوتے ہیں، سامان پکھرا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس موقع پر اس کا فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔مگر اس تقریب پر اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں اِس لئے اس تحریک کو یوں بدل دیا جائے کہ منارہ پر روشنی کا انتظام کر دیا جائے۔منارہ پر جو بڑے لیمپ ہیں وہ روشن کر دیئے جائیں اور اُن کے نیچے چھوٹے لگا دیئے جائیں تا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نشان بھی پورا ہو۔اس طرح فضول خرچی بھی نہیں ہوگی۔ایک ایسی تقریب جو اپنی نوعیت کی پہلی تقریب ہے ہمیں ایسے رنگ میں منانی چاہئے کہ اس میں کوئی بات فضول نہ ہو۔اگر چہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے بعض اوقات عبث کام بھی کرنا پڑتا ہے کیونکہ مصلحت کا