خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 396
خطابات شوری جلد دوم ۳۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء تک مجھے یاد ہے احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے یا کوئی شخص آتا تو مسلمان اهلا وَ سَهْلًا وَ مَرْحَبًا کہا کرتے تھے۔یہ مجھے یاد نہیں کہ کسی ایسے موقع پر اللہ اکبر کے نعرے لگائے گئے ہوں۔اللهُ أَكْبَرُ کا نعرہ تو قربانیوں کے نتائج سے تعلق رکھتا ہے مثلاً خندق کھودتے وقت جب ایک ایسا پتھر آ گیا، جو ٹوٹنے میں نہ آتا تھا تو صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا۔آپ نے کدال ماری تو اس میں سے شعلے نکلے اور آپ نے کشف میں دیکھا کہ قیصر و کسری کے خزانے آپ کو دیئے گئے ہیں اس پر آپ نے اللهُ أَكْبَرُ کا نعرہ لگایا اور صحابہ نے بھی آپ کا تتبع کیا۔یا اسی طرح عید کے موقع پر جسے عیدالاضحیہ کہتے ہیں، تکبیر کے کلمات کہے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں موقع بے موقع اللہ اکبر کے نعروں کا رواج ہو گیا ہے۔جس موقع پر اهلًا وَ سَهْلًا وَ مَرْحَبًا کہنا چاہئے اس موقع پر بھی اللہ اکبر کے نعرے لگا دیئے جاتے ہیں اور الوداع کے موقع پر بھی۔یہ تو وہی بات ہوئی جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کہ ہر مصالحہ پیلا مول۔“ ہر چیز کے استعمال کا ایک موقع ہوتا ہے۔جلوس کے ساتھ نعروں کا بھی غلط استعمال ہونے لگا ہے۔ایک دفعہ ہم جب ایک جگہ پہنچے تو دوستوں نے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔میں نے کہا ہم تو ملنے آئے ہیں۔اللہ اکبر کے نعروں کا یہ کیا موقع ہے۔لیکن جب میں یہ کہہ کر آگے بڑھا تو پھر وہی نعرے لگائے جانے لگے۔میرا خیال ہے جلوس کا سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے بھی آیا ہے اور آپ نے اسے پسند فرمایا ہے کہ اس سے لوگ یہ سمجھیں گے کہ ہزاروں احمدی ہو چکے ہیں۔اس طرح کے جلوس صحابہ سے بھی ثابت ہیں کہ ہجوم کر کے بعض موقع پر چلتے تھے۔عید کے متعلق ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ایک رستہ سے جاؤ اور دوسرے سے آؤ کے اس سے بھی ایک جلوس کی صورت ہو جاتی ہے کیونکہ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جہاں تک ہو سکے اکٹھے آؤ جاؤ۔اس سے دشمنوں پر رعب ہوتا ہے اور ان کو یہ دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ سلسلہ کو کتنی ترقی حاصل ہو چکی ہے اور ویسے جلوس کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے۔مگر ہمارے ہاں جلوسوں کا طریق غلط ہے اسے ایک تماشا بنا لیا جاتا ہے بجائے سنجیدہ بنانے کے۔میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ہجوم اپنے طور پر چلتا جائے اور ہر شخص اپنی پسند کے مطابق