خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 385
۳۸۵ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء سب کاموں سے زیادہ پیارے ہیں اس لئے ان حالات میں زیادہ ضروری ہے کہ ہم دین کے لئے تیار ہوں۔مگر افسوس ہے کہ اب تک جماعت میں یہ بات پیدا نہیں ہوئی۔پس میں جماعت سے پہلے تو یہی مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے طوعی وعدوں کو بغیر کسی کے کہنے یا تحریک کرنے کے پورا کرنے اور کرانے کی روح پیدا کریں۔میں وعدوں کے متعلق جماعت کو اس معیار پر لانا چاہتا ہوں کہ وعدہ کرنے کے بعد قطعی طور پر کوئی اور امر کہنے کی ضرورت نہ رہے لیکن ابھی اس مقام تک پہنچنا تو الگ رہا، اس کے قریب بھی جماعت نہیں پہنچی۔میں اس وقت توجہ دلاتا ہوں کہ جب تک جماعتیں بحیثیت جماعت اس طرف نہ آئیں گی، کامیابی نہیں ہو سکتی۔مثلاً اس وقت یہی جو نمائندے ہیں یہی اپنے لئے مقرر کر لیں کہ وہ کہیں کہ ہم نے وعدہ کیا ہے، اب ہم اِس کی ذمہ داری لیتے ہیں کہ ہم خود بغیر کسی کی مزید تحریک کے انہیں ادا کریں گے۔جو تحریکیں خاص ہوتی ہیں اُن کی یاددہانی نہیں کرائی جاتی لیکن یہاں جماعت کو ہر بار توجہ دلانی پڑتی ہے، تو اس طرح سے جماعت میں ایک ایسا حصہ تیار ہو جائے گا جو بغیر یاد دہانی کے ہی اپنے وعدوں کو ادا کر دے گا اور یہ حصہ آئندہ کے لئے ایک بیج کی طرح ہوگا۔پس آپ لوگ یہ اقرار کریں کہ اگر آپ نے اپنے نام پیش کئے ہیں تو کہیں کہ ہم خود اپنے وعدے ادا کریں گے، ایسے لوگوں کو پھر یاد دہانی نہیں کرائی جائے گی۔تو اس وقت میں آپ لوگوں کو ایمان کے پختہ کرنے کا موقع دیتا ہوں کہ اس طرح آپ دوسرے لوگوں کے لئے بھی نمونہ بنیں۔ہمیں اس وقت ساری جماعت کے متعلق کوئی قانون پاس کرنے میں حجاب ہوتا ہے لیکن اگر افراد خود اپنے اقرار پیش کریں تو ہمیں آسانی ہو جائے گی۔اس سلسلے میں میں دفتر تحریک اور جو بلی فنڈ والوں سے بھی کہتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا وعدہ کرے تو اُس کو یاد دہانی نہ کرائی جائے۔جو تاریخ اس کے دینے کیلئے مقرر کی ہو، اس کے بعد اُس کو نادہندہ قرار دیا جائے اور جو سزا تجویز ہو وہ اُسے دی جائے۔بہر حال اگر ایسا ہو جائے تو یہ ایسا بیج ہو گا جس سے ہم اچھے کھیت کے پیدا ہونے کی توقع کر سکتے ہیں۔اور جب تک اس قسم کی جماعت پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوں اُس وقت تک ہم دُنیا کو عمدہ نمونہ نہیں دکھا سکتے۔