خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 382

خطابات شوری جلد دوم ۳۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء چاہئے۔جس طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت دی تھی کہ تم جدھر بھی رُخ کرو، فتح مکہ کا مقصد تمہارے سامنے رہنا چاہئے۔۔اسی طرح تم جو بھی کام کرو، اور اس مجلس شوریٰ میں جو بھی مشورہ پیش کرو، اس کام کے کرتے اور اس مشورہ کے دیتے وقت تمہارے مد نظر یہی امر رہنا چاہئے کہ ہمارا مقصد قلیل ترین عرصہ میں دُنیا میں اسلامی نظام اور اسلامی تمدن قائم کرنا ہے ، خواہ اس کے لئے ہمیں کتنی قربانیاں کرنی پڑیں۔اگر ہم سچے احمدی ہیں تو ہمیں اپنی قربانیوں سے اس عظیم الشان مقصد کے پورا کرنے کا فکر کرنا چاہئے۔اور اگر ہم بچے احمدی نہیں اور اس مقصد کو ایک کھیل سے زیادہ وقعت نہیں دیتے تو پھر ہمارے یہاں جمع ہونے کی کوئی قیمت نہیں اور ہم اپنا وقت اور اپنا مال بلا وجہ ضائع کرنے کے جُرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔“ دوسرا دن قانون کا احترام اور وعدہ کا ایفاء ضروری ہے مجلس مشاورت کے دوسرے دن پروگرام کے مطابق متفرق امور سے اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی اور شوریٰ کے ایک فیصلہ کی عدم تعمیل کے بارہ میں تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پیش ہوئی۔کمیشن نے قرار دیا کہ اس کی ذمہ داری سابق ناظر صاحب بیت المال پر عائد ہوتی ہے لہذا وہ مجلس شوری میں اپنی غلطی کا اقرار کر کے حضور سے معافی مانگیں۔چنانچہ سابق ناظر صاحب بیت المال نے اس کی تعمیل میں عَلَى الْإِعْلَانِ حضور سے معافی مانگی۔اس کے بعد حضور نے احباب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: - میں جیسا کہ گزشتہ سالوں میں کہہ چکا ہوں، اب بھی کہتا ہوں کہ نظارت نے مجلس شوریٰ کی حقیقت کو سمجھا ہی نہیں اور یا تو وہ کسی جذبہ رقابت سے متاثر ہو کر یا اس خیال سے کہ لوگوں کو بلا کر ان کی بھڑاس نکالی جائے گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی مجلس شوری میں نظارت نے یہی غلطی کی ہے۔ناظر بیت المال تو در حقیقت قربانی کا بکرا بنے ہیں لیکن اصل میں مجلس شوری کے فیصلوں کی نسبت گزشتہ سالوں میں کوئی عملی کا رروائی نہیں ہوئی ، اگر ؟