خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 379
خطابات شوری جلد دوم ۳۷۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء یہ کہ ملک اور رعایا کے حقوق کی حفاظت کی جائے اور ان کے لئے ترقی کے زیادہ سے زیادہ مواقع بہم پہنچائے جائیں مگر اے میرے رب ! مجھے معلوم نہیں کہ میں اس مہدہ کے قابل ہوں یا میرا چچا اور میرے بھائی اس مہدے کے لئے مجھ سے زیادہ موزوں ہیں، میں حالات سے بالکل ناواقف ہوں اور میں غیب کی کوئی بات نہیں جانتا، پس میں تجھ سے نہایت عاجزانہ طور پر التجا کرتا ہوں کہ اگر تیرے نزدیک میں ہی اس معہدے کے زیادہ قابل ہوں تو کل کی جنگ میں مجھے فتح دیجیو اور اگر میری فتح میرے ملک اور میری قوم کے لئے نقصان رساں ہے اور میرا چچا اور میرے بھائی مجھ سے زیادہ قابل اور زیادہ موزوں ہیں تو اے خدا! کل مجھے موت دیجیو اور میرے چچا اور میرے بھائیوں کو فتح دیجیؤ تا کہ ملک کا بھلا ہو اور وہ بادشاہت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکے ۔ گبن ایک عیسائی مؤرخ اور نہایت ہی متعصب مؤرخ ہے مگر وہ اس عظیم الشان واقعہ سے اس قدر شدید طور پر متاثر ہوا ہے کہ بے اختیار ہو کر اس مقام پر لکھتا ہے کہ مسلمان بے شک کافر ہیں اور ہماری قوم ان کی بُرائیاں بیان کرتی ہے اور میں بھی انہیں برا ہی سمجھتا ہوں مگر میں عیسائی دُنیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ کیا تم سارے مل کر بھی وہ نمونہ پیش کر سکتے ہو جو ایک مسلمان نوجوان نے دُنیا کے سامنے پیش کیا۔ تو اس قسم کی مثالیں بھی بعد میں ملتی ہیں مگر بہر حال ایسی مثالیں استثنائی صورت رکھتی ہیں ۔ سے قبولیت دعا کے دو واقعات میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۔ سنا ہے کہ ایک دفعہ تیمور یا محمود غزنوی کو ایک جنگ میں شکست ہونے لگی تو اُس نے دعا کی کہ خدایا ! میں تو اسلام کی خدمت کے لئے لڑ رہا تھا اور میری نیت کا تجھے علم ہے ، اگر میں اپنی بڑائی یا اپنی حکومت کی توسیع کے لئے جنگ کرتا تو اور بات تھی مگر میری نیت تو تیرے دین کی خدمت ہے اور اب میری شکست کا اثر صرف مجھ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تیرے دین تک بھی پہنچے گا پس تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ یہ شکست فتح سے بدل جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے اُس کی اس دعا کو قبول کیا اور معاً ایسے سامان پیدا ہو گئے کہ دشمن نے غلطی سے یہ سمجھ کر کہ یہ مقابل کی فوج ہے، اپنے اُسی دستہ پر حملہ کر دیا جو مسلمانوں کی فوج کو شکست دیتا چلا جا رہا تھا اور اس طرح مسلمانوں کی شکست