خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 378
خطابات شوری جلد دوم ۳۷۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء اسباب کے استعمال کا ایک طبعی نتیجہ کہلاتے ہیں۔الَّا مَا شَاءَ اللہ۔بعض لوگ بعد میں آنے والوں میں بھی ایسے ہو سکتے ہیں جو خالص خدا کے لئے کام کریں اور وطنیت اور قومیت کے جذبات کو قریب بھی نہ پھٹکنے دیں۔ایک مسلمان بادشاہ کی خوبی میں نے پہلے بھی غالبا یہ بات سنائی ہوئی ہے کہ گھمن جو ایک مشہور مؤرخ ہے، اُس نے روم کی ترقی و تنزل کے حالات کے متعلق ایک تاریخی کتاب لکھی ہے۔اس کتاب میں وہ ایک مسلمان بادشاہ کا ذکر کرتا ہے جس کی اٹھارہ سال کی عمر تھی، اُس کا باپ فوت ہو گیا تھا اور وہ اُس کی جگہ بادشاہ بنا دیا گیا تھا۔جب وہ بادشاہ بنا تو اُس کے چچا اور دوسرے بھائیوں نے بغاوت کر دی اور اس قدر شورش پیدا کر دی کہ اس کی حکومت چاروں طرف سے خطرات میں گھر گئی۔اس بادشاہ کا ایک وزیر تھا جس کا نام نظام الدین طوسی تھا۔نظام الدین طوسی علمی دُنیا میں ایسی شہرت رکھتا تھا جیسے سیاسی دُنیا میں سکندر اور نپولین شہرت رکھتے ہیں۔تمام اسلامی مدارس جو آجکل مشرقی دُنیا میں جاری ہیں اسی کی نقل میں جاری ہیں کیونکہ سب سے پہلے اسی نے ان مدرسوں کا طریق ایجاد کیا تھا۔وہ نظام الدین طوسی مذہب کے لحاظ سے شیعہ تھا۔جب بغاوت زیادہ بڑھ گئی تو اُس نے بادشاہ کو تحریک کی کہ حضرت موسیٰ رضا کے مقبرہ پر جا کر کامیابی کے لئے دعا کی جائے۔اس کی غرض یہ تھی کہ اگر بادشاہ کو کامیابی حاصل ہو گئی تو یہ بھی شیعہ ہو جائے گا۔گبن لکھتا ہے کہ نظام الدین طوسی کی اس تحریک پر نو جوان با دشاہ موسیٰ رضا کے مقبرہ پر گیا اور وہاں دونوں نے دعا کی۔جب وہ دعا سے فارغ ہو گئے تو بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ میں نے بھی دعا کی ہے اور آپ نے بھی دعا کی ہے، کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ آپ نے کیا دعا کی ہے؟ نظام الدین طوسی نے کہا میں نے یہ دعا کی ہے کہ خدایا تو ہمارے بادشاہ کو فتح دے اور اس کے دشمنوں کو شکست دے۔بادشاہ نے کہا میں نے تو یہ دعا نہیں کی۔نظام الدین نے پوچھا پھر آپ نے کیا دعا کی ہے؟ بادشاہ نے کہا میں نے یہ دعا کی ہے کہ اے خدا! بادشاہت تیری ایک امانت ہے جو بندوں کے سپرد کی جاتی ہے اور یہ ایک بوجھ ہے جو ان کے کندھوں پر تیری طرف سے ڈالا جاتا ہے اِس عہدے کی صرف ایک ہی غرض ہے اور وہ