خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 373
۳۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خطابات شوری جلد دوم نے ایک نئی دنیا بسانی ہے، ہم نے ایک نیا آسمان بنانا اور ایک نئی زمین بنانی ہے۔اور اس کے لئے وقت یہی مقرر ہے جس میں سے ہم گزر رہے ہیں۔باقی قو میں ایک ہزار سال بھی اپنی ترقی کے لئے اور انتظار کر سکتی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ کوئی وعدہ نہیں کہ اُنہوں نے اسی زمانہ میں ترقی کرنی ہے۔جرمنی جو یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کا غلبہ تمام دنیا پر ہو جائے اور دُنیا کی غالب حکومت جرمنی کی حکومت ہی سمجھی جائے اُس کے لئے یہ کوئی مقدر نہیں کہ وہ چالیس یا پچاس سال کے اندر غلبہ پائے گی۔ہوسکتا ہے وہ آج کامیاب نہ ہومگر ہزار سال کے بعد کامیاب ہو جائے۔اٹلی جو اس امر کے لئے جدو جہد کر رہا ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو حاصل کرے، اس کی جد و جہد اگر آج ناکام رہتی ہے تو اس کے لئے ترقی کا راستہ بند نہیں ہوتا اور کوئی وجہ نہیں کہ اگر آج وہ ناکام ہو تو آج سے چار سو یا پانچ سو سال کے بعد اپنے مقصود کو حاصل نہ کر سکے۔یہی حال انگلستان کا ہے۔اگر آج جرمنی اور اٹلی والے انگلستان والوں کو دبا لیتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پچاس یا ساٹھ یا سو سال کے بعد پھر جرمنی اور اٹلی پر وہ غالب نہ آجائیں کیونکہ ان کی ترقی کا کوئی زمانہ معتین نہیں۔وہ آج بھی ترقی کر سکتے ہیں اور آج سے دو سو یا چار سو یا پانچ سو سال کے بعد بھی کر سکتے ہیں۔روحانی غلبہ اور ہماری ذمہ داری دُنیا میں صرف ایک ہی جماعت ایسی ہے جس کے لئے ترقی کا ایک زمانہ مقرر ہو چکا ہے اور وہ تم ہو۔تمہارے لئے نہ صرف یہ مقدر ہو چکا ہے کہ تمہارے ذریعہ دُنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہوگا بلکہ اس کے ساتھ ہی ایک اہم بات یہ ہے کہ تمہارے لئے ترقی کا یہی وقت مقرر ہے۔اگر تم اس وقت سے آگے پیچھے ہو جاتے ہو تو تمہارے لئے ترقی کا اور کوئی وقت نہیں۔کیونکہ انبیاء کی جماعتیں اُسی زمانہ میں ترقی کیا کرتی ہیں جو زمانہ نبوت کے قریب تر ہوتا ہے۔بے شک دُنیوی غلبہ بعد میں بھی حاصل ہوتا رہتا ہے مگر تمام دنیا پر روحانی غلبہ انبیاء کی بعثت کے محدود عرصہ کے بعد ہی ہو جاتا ہے، جو سو سوا سو یا ڈیڑھ سو سال کا عرصہ ہوتا ہے۔اس کے بعد دنیوی غلبے کا زمانہ آتا ہے، بڑی بڑی حکومتیں آتی ہیں، شاندار فوجیں تیار ہوتی ہیں، عظیم الشان مجالس منعقد ہوتی ہیں، بادشاہ اور حکام اُس سلسلہ میں