خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 371

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء میں کام نہیں ہو رہا جس عمدگی سے قادیان میں ہو رہا ہے۔میرا منشاء ہے کہ قادیان کے خدام الاحمدیہ جب وہ تمام سبق ذہن نشین کر لیں جو میں ان کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں اور ان کو اس تحریک کی تمام جزئیات کا علم ہو جائے تو انہیں انسپکٹر بنا کر باہر کے علاقوں میں بھیجا جائے تاکہ وہ مہینہ مہینہ دو دو مہینے وہاں رہ کر مجالس خدام الاحمدیہ کو بیدار کریں اور اُنہیں اُن نقائص کو دُور کرنے کی طرف توجہ دلائیں جو اُن میں پیدا ہوں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کام کی طرف جماعت کو توجہ ہے إِلَّا مَا شَاءَ الله بعض جماعتوں نے ابھی اس طرف توجہ نہیں بھی کی مگر عام طور پر خدام الاحمدیہ کی تحریک کی طرف جماعت کو توجہ ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے نتائج نہایت اچھے پیدا ہورہے ہیں۔اگر میری اس سکیم پر جو میں نے خدام الاحمدیہ کے سامنے پیش کی ہے پورے طور پر عمل کیا گیا تو احمدیت کا دنیا کے سامنے ایک خوشنما نقشہ آ جائے گا جسے دیکھ کر ہر شخص احمدیت کی فضیلت اور اس کی خوبیوں اور برتری کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگا۔تبلیغ احمدیت اور ہمارا مقصد چوتھی چیز تبلیغ احمدیت ہے اس کے متعلق میں نے جماعت سے وعدے مانگے ہیں اور میں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر شخص ہمیں بتائے کہ وہ سال میں کتنے نئے احمدی بنائے گا۔اس کے متعلق ابھی تمام جماعتوں کی طرف سے وعدے نہیں آئے ، لیکن آہستہ آہستہ آرہے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ جن جماعتوں یا افراد نے ابھی تک اس طرف توجہ نہیں کی وہ فوری طور پر توجہ کریں گے اور محکمہ متعلقہ کو اپنے اپنے وعدوں کی اطلاع دے دیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعتیں اس مطالبہ کی طرف توجہ کریں تو ایک سال میں عظیم الشان تغیر پیدا ہو سکتا ہے۔اگر ہر احمدی لازماً ہر سال ایک نیا احمدی بنائے اور اس میں کسی قسم کی شستی اور غفلت کو روانہ رکھے تو چار پانچ سال کے اندر ہی ہماری جماعت اتنی زیادہ تعداد میں پھیل سکتی ہے کہ دشمن کی نگاہیں بغض اور غصہ سے ہمیں نہیں دیکھ سکتیں۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں محض اتنی چھوٹی سی بات کی وجہ سے تبلیغ نہیں کرنی چاہئے کہ ہم دشمن کے ضرر سے بچ جائیں گے بلکہ ہمارے مد نظر ہمیشہ یہ امر رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو، یہی ہمارا اصل مقصود ہے اور اس مقصد کو ہمیشہ ہمیں اپنے مد نظر رکھنا چاہئے۔محض یہ خیال کہ تبلیغ کے نتیجہ