خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 370

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء کہ دنیا کی کسی علمی مجلس میں بیٹھ کر وہ اپنے آپ کو کم علم والا محسوس نہ کریں۔اور اگر روپیہ کے لحاظ سے ان کے پاس کمی ہو تو لیاقت اور قابلیت اور علم کے لحاظ سے ان کے پاس اِس قدر فراوانی ہو کہ کوئی شخص انہیں ذلیل نہ سمجھ سکے اور ہر جگہ وہ اپنا رُعب قائم رکھ سکیں۔تحریک جدید کا مستقل فنڈ باقی رہا روپے کا معاملہ، سو جہاں تک وعدوں کا سوال ہے جماعت نے اس سال پہلے سالوں سے زیادہ تحریک جدید کے مالی مطالبہ کی طرف توجہ کی ہے۔اور باوجود یکہ بہت سے لوگ اس نیت اور اس ارادہ سے اس تحریک میں شامل ہوئے تھے کہ تین سال کے بعد یہ تحریک بند ہو جائے گی اور مالی بوجھ ان پر زیادہ دیر تک نہیں رہے گا اور باوجود اس بات کے کہ میں نے اب یہ اعلان کر دیا ہے کہ دس سال تک جماعت کو مسلسل یہ مالی قربانی کرنی پڑے گی اور یہ کہ وہی اس تحریک میں شامل ہوں جو مستقل طور پر قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تا کہ اس دائمی یادگار میں اُن کا نام آئے جو مسلسل قربانی کرنے والوں کی یاد میں قائم کی جائے گی پھر بھی بجائے کمی کے وعدوں میں زیادتی ہوئی ہے۔چنانچہ اس وقت تک ایک لاکھ پچیس ہزار روپیہ کے وعدے ہو چکے ہیں اور ابھی بیرونی ممالک کی اکثر جماعتوں کے وعدے نہیں پہنچے اُن کو ملا کر یہ رقم اور بھی زیادہ ہو جائے گی۔جیسا کہ میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں اس روپیہ سے تحریک جدید کا ایک ایسا مستقل فنڈ ہم نے قائم کرنا ہے جس کے نتیجہ میں آئندہ تحریک جدید کا شعبہ چندے کا محتاج نہیں رہے گا۔وقتی یا ہنگامی ضرورت کے لئے اگر کوئی چندہ کرنا پڑے تو وہ اور بات ہے۔اس فنڈ کے قائم کرنے سے میرا منشاء یہ ہے کہ روزانہ کام کے لئے چندوں کی ضرورت نہ رہے اور اس فنڈ کی آمد سے ہی تمام کام ہوتا رہے تا کہ ہمارے ملک کا اقتصادی اُتار چڑھاؤ تبلیغ کے کام میں روک پیدا نہ کر سکے۔- خدام الاحمدیہ کی کامیابی عملی حصہ کے متعلق میں نے خدام الاحمدیہ کی تحریک جماعت میں جاری کی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک کو بہت بڑی کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔قادیان میں خصوصاً اچھا کام ہو رہا ہے باہر بھی بعض جگہ مجالس خدام الاحمد یہ اچھا کام کر رہی ہیں۔مگر چونکہ ابھی وہ پورے طور پر منظم نہیں ہیں اور دوسرے پورے طور پر انہیں تجربہ بھی حاصل نہیں اس لئے اس عمدگی سے بیرونی جماعتوں