خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 354
۳۵۴ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء دس ہزار سالانہ اس سے منافع سلسلہ کو ملتا۔یہ افسوسناک امر ہے اور اس کی اصلاح فوراً ہونی چاہئے۔رسائل و اخبارات کا بھی یہی حال ہے۔عملہ اپنی کوئی ذمہ داری نہیں سمجھتا اور یقینا سستی سے کام لیتا ہے۔سب کاموں میں عملہ پر آمد کی ذمہ داری ڈالنی چاہئے اور آمد کا اثر عملہ کے گزارہ پر بھی اُسی طرح پڑنا چاہئے جس طرح انجمن پر تا کہ دونوں کو توجہ رہے۔(۳) ایک قربانی کارکن کریں اور اس کے بالمقابل ویسی ہی قربانی جماعت کرے۔یعنی بجٹ کو پورا کرنے کے لئے کارکن بھی ایک کٹوتی اپنی تنخواہوں میں منظور کریں اور جماعت بھی اس کے مقابل پر ویسی ہی زیادتی اپنے چندوں میں کرے۔آئندہ بجٹ کے متعلق میرے نزدیک اصول یہ ہونا چاہئے کہ ایک اصل آمد نکالی جائے۔یعنی گل آمد سے سب زائد آمد نیاں جو عارضی طریق سے حاصل کی گئی ہوں خارج کر دی جائیں اور فیصلہ یہ کیا جائے کہ بجٹ بہر حال اس اصل آمد سے دس فیصدی کم رکھنا ہے۔اس غرض کیلئے کارکنوں کی تنخواہوں اور سائز میں مناسب کمی کر دی جائے۔تنخواہوں کی کمی تین درجوں میں تقسیم ہو۔مثلاً ۳۳، ۲۵، ۲۰ یا مثلاً ۲۵، ۱۵،۲۰ یا مثلاً ۲۰، ۱۰،۱۵ یعنی ان تین قسم کی کمیوں میں سے جس قسم کی کمی سے یہ کام ہو سکتا ہو ا سے استعمال کر لیا جائے۔اس تجویز سے جو دس فیصدی بچت بجٹ سے ہو نیز وہ سب رقوم جو غیر معمولی مدات آمد سے حاصل ہوں ، قرضہ کی ادائیگی میں خرچ کی جائیں۔مرکزی کارکنوں کی اس قربانی کے بالمقابل جماعت کے مخلصین بھی تین سال کے لئے غیر معمولی بوجھ اپنے پر قبول کر کے اس قربانی کے مساوی قربانی اپنی آمدنیوں میں کریں۔یعنی اپنی آمدنیوں میں سے زائد چندے ادا کریں اور یہ چندے بھی قرض کی ادائیگی پر خرچ ہوں۔کارکنوں کی کٹوتی کو قرض سمجھا جائے جو تو فیق پر انجمن ادا کرے۔کوشش کی جائے کہ ریٹائر ڈ ہونے والے کارکن کو یہ قرض پراویڈنٹ فنڈ کے ساتھ ادا کر دیا جائے۔علاوہ اوپر کی مستقل تجویزوں کے غیر ضروری جائدادوں کو بھی فروخت کر دیا جائے اور اس آمد سے قرض اُتارا جائے۔