خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 353
خطابات شوری جلد دوم ۳۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء جائے۔آگے یا وہ پیدل سفر کریں یا گھوڑے وغیرہ پر دوستوں سے بطور امداد لے کر علاقہ میں سفر کریں۔خرچ والے سفر صرف اُس صورت میں ہوں کہ اُن کو جماعتیں خود خرچ بھجوا دیں۔(۴) کچھ مبلغوں کو چھانٹ کر دوسرے کاموں پر لگایا جائے یا فارغ کر دیئے جائیں۔کیونکہ ایک حصہ مبلغوں میں ایسا ہے جو در حقیقت بوجھ بنا ہوا ہے۔محکمہ ان سے کام نہیں لے رہا۔میرے نزدیک جس طرح نظارت دعوۃ و تبلیغ کام کر رہی ہے موجودہ مبلغوں کی ایک چوتھائی موجودہ کام سے زیادہ اچھا کام کر سکے گی بشرطیکہ اچھے آدمی چھنے جائیں۔اس وقت تبلیغ بذریعہ مبلغین قریباً بند ہے۔اور سب سے زیادہ بے فیض اس بارہ میں یہ محکمہ ہے۔دوسرے لوگ ان سے زیادہ افراد کو جماعت میں لانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ان سے صحیح طور پر کام نہیں لیا جاتا اور بعض ایسے لوگ مبلغ بن گئے ہیں جو تبلیغ کے اہل نہیں کیونکہ انتخاب میں پوری توجہ سے کام نہیں لیا گیا۔۲۔آمد بڑھانے کے متعلق:- (۱) ہائی سکول اور مدرسۃ البنات کے اخراجات جس طرح ہو رہے ہیں وہ غیر ذمہ دارانہ ہیں۔تمام قومی سکولوں میں اخراجات کی ذمہ داری ایک حد تک خود عملہ پر ہوتی ہے اور اکثر جگہ تو کلی طور پر عملہ پر ہی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن یہاں عملہ کو آمد سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔میرے نزدیک ہائی سکول اور مدرسہ بنات کی امداد کی ایک رقم مقرر کر کے آئندہ آمد کے پیدا کرنے کی ذمہ داری عملہ پر ڈالدی جائے تاکہ خرچ اور آمد کو برابر رکھنے کا انہیں احساس پیدا ہو۔مدرسہ بنات میں تو اندھیر ہے کہ دس ہزار کا خرچ سب کا سب سلسلہ کو ادا کرنا پڑتا ہے۔اگر عملہ پر ذمہ داری ہوتی تو کب کا وہ امدا دسر کاری لینے میں کامیاب ہو جاتا۔اس بارہ میں خاص قوانین تجویز کئے جائیں جن کی امداد سے جلد سے جلد یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔(۲) تجارتی صیغے سب کے سب گھاٹے پر چل رہے ہیں اور اس کی وجہ صدر انجمن احمدیہ کی بے تو جہی ہے۔ہمارا کتب خانہ جو ہزاروں کی آمد کا موجب ہونا چاہئے تھا اس کا روپیہ بہت سا ضائع ہوا ہے اور کبھی بھی اس سے نفع حاصل نہیں ہوا حالانکہ چاہئے تھا کہ پانچ