خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 347

خطابات شوری جلد دوم ۳۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء زیادہ نہیں۔ایسے آدمی اگر ہمیں میسر آجائیں تو ہمیں ان کو غیر ممالک میں بھیجنے میں کوئی گھبراہٹ نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کو علم کی صورت میں نفع مل جائے گا اور ہمیں ایک قابل آدمی کی صورت میں نفع مل جائے گا۔تو ان چیزوں پر ہمیں غور کرنا چاہئے۔یہ ایسی باتیں نہیں ہیں جن کا معمولی اثر ہو بلکہ ان کے نتائج نہایت دُور رس ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں جہاں ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم کسی ضروری چیز کو نہ چھوڑیں وہاں ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم کسی خاص شکل کے غلام نہ بنیں۔اصل مقصد جو ہمارے سامنے رہنا چاہئے یہ ہے کہ سلسلہ کے مستقل فائدے کی صورت کس میں ہے۔پھر سلسلہ کا مستقل فائدہ جس صورت میں بھی ہو اُسے اختیار کر لینا چاہئے ، خواہ اس کے نتیجہ میں پہلی کوئی شکل بالکل بدل جائے۔میں نے بتایا ہے کہ بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ گویا مدرسہ احمدیہ کو ہم اُڑانے لگے ہیں اور بعض دوستوں کے ذہن میں یہ بات ہے کہ محض مالی مشکلات کے دور کرنے کی ایک تجویز ہے حالانکہ مدرسہ احمدیہ کو اُڑانے کی کوئی تجویز ہے اور نہ مالی مشکلات کے حل کے لئے میں نے یہ تجویز پیش کی ہے۔میں نے جس نقطہ نگاہ کے ماتحت یہ تجویز پیش کی ہے وہ یہی ہے کہ ہم نا قابل لڑکے تیار نہ کریں بلکہ ایسے لڑکے تیار کر کے بھیجیں جو علمی لحاظ سے دُنیا پر اپنا رعب ڈال سکیں۔میں یقیناً ہر اُس مشورہ پرغور کرنے کے لئے تیار ہوں جو اس بارہ میں دوستوں کی طرف سے پیش ہو اور خوشی اور بشاشت کے ساتھ اُس کو سُنوں گا مگران کو بھی مشورہ پورے غور کے بعد دینا چاہئے۔میں نے راتیں جاگ جاگ کر اور سالہا سال غم کھا کر جماعت کی ضرورتوں کے متعلق تجاویز سوچی ہیں، آپ لوگوں کا بھی فرض ہے کہ اس پر جذباتی رنگ میں غور نہ کریں بلکہ حقیقی درد کے ساتھ غور کریں۔غرض یہ تمام باتیں ہم کو مد نظر رکھنی چاہئیں اور پھر یہ بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ ہوسکتا ہے بعض دفعہ مالی بوجھ ہم پر اس رنگ میں پڑ جائے کہ چندے لینے کی ہمیں ممانعت کر دی جائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہام بھی اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔پس ہمیں اپنے نظام کو ایسی صورت میں لانا چاہئے کہ ہمیں نہ حکومتوں کا ڈر رہے نہ قوموں کا ڈر۔کسی شاعر کا ایک شعر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ہمارا کیا ہے، ہمارا نہ گھر ہے