خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 345
خطابات شوری جلد دوم ۳۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء تمہاری زندگی وقف ہے تم ہمارے خرچ پر جاؤ گے اور ہمارے خرچ پر اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرو گے۔مگر دیکھنا تمہیں ملیں گے وہی پندرہ روپے۔اب ایسے آدمی کو تعلیم دلانے سے ہم پر کوئی بوجھ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ جس قدر تعلیم بھی حاصل کرے گا اس کا سلسلہ کو بھی فائدہ پہنچے گا اور اُس کو بھی فائدہ پہنچے گا مگر وہ علم اور عرفان کی صورت میں ہو گا۔اگر وہ تحریک جدید کا مبلغ نہ ہوتا تو اسے یہ موقع کب مل سکتا تھا۔تو تحریک جدید کے اصول پر میرا ارادہ یہ ہے کہ جماعت کے نوجوانوں کو ایسے رنگ میں اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلاؤں کہ ان کا سلسلہ پر بوجھ نہ ہو اور وہ سلسلہ کے لئے مفید ثابت ہوں۔اس رنگ میں اگر ہم ہزار یا پندرہ سو آدمی تیار کر لیں تو دُنیا کے ہر فن کے آدمی ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے موجود ہو جائیں گے۔مگر موجودہ حالت یہ ہے کہ ہم جب بھی کسی کو ولایت بھیجتے ہیں ، دل ڈرتا رہتا ہے کہ ہم نے ذرا اسے علم سکھایا تو اُس نے اپنی قیمت زیادہ لگانی شروع کر دینی ہے۔چنانچہ ولایت میں ہماری جماعت کے جس قدر آدمی گئے ہیں وہاں سے آتے ہی ان کی تنخواہیں بڑھ جاتی رہی ہیں اور شاذ ہی ایسی مثال ملے گی کہ کوئی ولایت سے ہو آیا ہو اور اُس کی تنخواہ نہ بڑھی ہو۔مگر یہ بھی اُس وقت ہوا جب انجمن والوں کے اس فعل کے خلاف میں نے شور مچایا۔اس وقت کے بعد شاید انہوں نے کسی کی تنخواہ نہیں بڑھائی۔جس کا ممکن ہے ان دوستوں کے دلوں میں شکوہ ہو اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں شکوہ ضرور ہوگا کہ پہلوں کے خلاف ہمارے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا۔غرض دشمن کے مقابلہ میں جن جن علوم کی ضرورت ہے اگر ہمارے آدمی قربانی کر کے انہیں تحریک جدید کے ماتحت سیکھ لیں تو اس کا انہیں بھی فائدہ ہوگا اور ہمیں بھی۔ہم ان وقف کرنے والے نوجوانوں سے کہیں گے کہ ہم تمہاری اس قربانی کے معاوضہ میں وہ تعلیم تمہیں دلائیں گے جو تمہارا سارا خاندان مل کر بھی تمہیں نہیں دلا سکتا۔گویا تمہاری تنخواہ روپیہ کی صورت میں تم کو نہیں ملے گی بلکہ تعلیم کی صورت میں ملے گی۔اس کے مقابلہ میں تمہاری موجودہ حالت کی نسبت سے جماعت نے جو تمہاری قیمت لگائی ہے وہ اس علم کے بعد بھی ہم سے لیتے رہو اور اپنی تعلیم سے سلسلہ اور اسلام کو فائدہ پہنچاؤ۔یہ چیزیں ہیں جو میرے سامنے ہیں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ سیاست میں بعض دفعہ