خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 344
خطابات شوری جلد دوم ۳۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ چونکہ انہیں زیادہ اعلیٰ تعلیم نہیں ملی ہو گی اس لئے وہ گزارہ کے لئے اپنے آبائی پیشہ کو بخوشی اختیار کر لیں گے۔مگر اب یہ ہوتا ہے کہ بعض کمزور ایمان کے طالب علم ایسے نکلتے ہیں کہ جب ہم انہیں کہتے ہیں کہ ابھی ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں جس پر تمہیں مقرر کیا جائے تو کوئی کہتا ہے کہ اچھا پھر میں پیغامی ہی ہو جاتا ہوں اور کوئی رُوٹھ کر فتنہ پیدا کرنے لگتا ہے۔پس ایسے وقت میں آ کرلڑکوں کے لئے بڑی مشکل ہوتی ہے۔اخلاص اور ایمان اتنا چونکہ ان میں ہوتا نہیں کہ وہ مصیبت کا مقابلہ کرسکیں اس لئے وہ اپنے مذہب سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔لیکن اگر ہم زمینداروں میں سے اس قسم کے مبلغ لیں اور اُنہیں تیار کریں تو بعد میں اگر ہم انہیں یہ بھی کہہ دیں کہ ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں تو وہ کہیں گے اچھا ہم پھر ہل پکڑ لیتے ہیں، پہلے بھی یہی کام کرتے تھے اور اب پھر یہی کام شروع کر دیتے ہیں۔اس طرح ایک وسیع حلقہ میں بغیر کسی خرچ کے تبلیغ ہو سکتی ہے۔پس ایک تو ایسے مبلغ تیار کئے جائیں اور ایسے لوگ بطور مبلغ لئے جائیں جن کے اندر اخلاص ایمان اور تقویٰ ہو اور جنہیں ضروری علوم پوری طرح پڑھائے گئے ہوں۔میں نے تحریک جدید کا جو سسٹم جاری کیا ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ میں نے دیکھا اگر ہم اپنے کارکنوں کو جاہل رکھتے ہیں تو اس طرح قومی نقصان ہوتا ہے اور اگر ہم انہیں ولایت میں بھیجتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ولایت جانے سے پہلے مثلاً اُن کی پچاس روپیہ تنخواہ ہوتی ہے تو وہاں سے واپس آتے ہی وہ ڈیڑھ سو روپیہ مانگنے لگ جاتے ہیں۔گویا وہ ولایت ہمارے خرچ پر جاتے اور ہمارے خرچ پر علمی ترقی حاصل کرتے ہیں مگر جب واپس آتے ہیں تو اپنی قیمت زیادہ مانگنے لگ جاتے ہیں۔اس نقص کو دیکھ کر میں نے تحریک جدید جاری کی اور اس میں میں نے یہ اصول رکھا ہے کہ گزارہ افراد کی تعداد کے مطابق ہوگا نہ کہ ڈگریوں کے مطابق۔اس تحریک کے ماتحت جولڑ کے لئے جائیں گے انہیں ہم دُنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلائیں گے۔اور میرا ارادہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس ارادہ کو پورا کرنے والا ہے کہ ہم کسی کو جرمنی میں تعلیم دلائیں، کسی کو امریکہ میں تعلیم دلائیں کسی کو انگلستان میں تعلیم دلائیں۔مگر ساتھ ہی ہم اُن کو یہ بھی کہہ دیں گے کہ دیکھو