خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 21
خطابات شوری جلد دوم ۲۱ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء والے نے سوئی رکھ دی اور کہہ دیا کہ اس طرح شیر کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔تو بے شک انسان کمزور ہے، اس سے قصور ہو جاتا ہے مگر ایک قصور ہو گیا ، دو ہو گئے یہ کیا کہ ہر حکم کو چھوڑ دے۔پھر اس میں اسلام کا کیا باقی رہ سکتا ہے۔صرف یہ مان لینا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوت قدسیہ سے نبی ہو سکتا ہے اور یہ سمجھ لینا کہ اس طرح اسلام دُنیا میں غالب آ جائے گا ایسا ہی ہے جیسا کہ ڈاکٹر اقبال کا یہ کہنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبین مان لینے کے بعد پھر خواہ کچھ کرو کوئی حرج نہیں اور اسلام غالب آ جائے گا۔جماعت کا ہر فرد تعاون کرے پس ہمارا فرض اسلام کو اس کی جزئیات سمیت قائم کرنا ہے اور اپنی اصلاح کے لئے ہر حکم پر عمل کرنا ضروری ہے۔مگر یہ اصلاح میرے خطبات اور تقریروں سے نہیں ہوسکتی کیونکہ ہر کان وہ تقریریں نہیں سُن سکتا اور ہر شخص اُس وقت تک نہیں سُن سکتا جب تک اس کا کان قبول کرنے کے لئے تیار ہو۔بلکہ یہ اسی طرح ہو سکتی ہے کہ جماعت کا ہر فر د میرے ساتھ تعاون کرے۔ہر خطبہ جو میں پڑھتا ہوں، ہر تقریر جو میں کرتا ہوں اور ہر تحریر جو میں لکھتا ہوں اُسے ہر احمدی اس نظر سے دیکھے کہ وہ ایک ایسا طالب علم ہے جسے ان باتوں کو یاد کر کے ان کا امتحان دینا ہے اور ان میں جو عمل کرنے کے لئے ہیں اُن کا عملی امتحان اُس کے ذمہ ہے۔اس طرح وہ میری ہر تقریر اور تحریر کو پڑھے اور اس کی جُزئیات کو یاد رکھے۔پھر جب پڑھ چکے تو سمجھے کہ اب میں اُستاد ہوں اور دوسروں کو سکھلانا میرا فرض ہے۔پس جو کچھ میں کہتا ہوں وہ ایسا ہی ہے جیسے ایک کتاب تصنیف کر دی جائے اور سکول کا کورس تیار کر دیا جائے مگر اس سے وہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتا جو اسے یاد نہ کرے اور حفظ نہ کرے جیسا کہ مدرسہ کی کتاب یاد نہ کرنے والا فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔پس آپ لوگ اقرار کریں کہ میں جو کچھ کہوں گا آپ طالب علم کی حیثیت سے اسے سنیں اور یاد کریں گے اور جب یاد کر لیں گے تو پھر استاد کی حیثیت سے دوسروں کو پڑھانا اپنا فرض سمجھیں گے۔جب تک ہم یہ صورت اختیار نہ کریں تب تک کوئی مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا یعنی انسانی ہاتھوں کے ذریعہ۔ورنہ خدا تعالیٰ تو کرے گا ہی جو کچھ کرنے کا اس نے وعدہ کیا ہوا ہے۔خلیفہ اُستاد ہے اور جماعت کا ہر فرد شاگرد مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے که باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے