خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 343

۳۴۳ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء اعلیٰ ہوں اور جن کی علمی اور اخلاقی حالت لوگوں کے لئے قابل نمونہ ہو۔اس کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ ہمیں ظالمانہ طور پر اُن تمام مبلغین کو کاٹ دینا چاہئے جو اس پایہ کے نہیں ہیں۔اور پھر اُن کو جو تبلیغ کے اہل ہوں ہر قسم کے علوم سکھائے جائیں اور اعلیٰ درجہ کی تعلیم دلائی جائے۔تا ایک طرف اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے اور دوسری طرف اپنے تقویٰ اور اخلاص کی وجہ سے ان کی تبلیغ اپنے اندر نمایاں اثر رکھے۔اور ایک ایسے مبلغین ہونے چاہئیں جو صرف تھوڑی سی تعلیم رکھتے ہوں۔اُنہیں نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور احمدیت کے موٹے موٹے مسائل سکھا کر گاؤں گاؤں میں پھیلا دیا جائے اور اُنہیں کہہ دیا جائے کہ وہ وہیں رہیں اور لوگوں کو وفات مسیح اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دیگر موٹے موٹے مسائل سے واقف کرتے رہیں اور عملی درستی اور ابتدائی تعلیم کی طرف زیادہ توجہ کریں۔تا اس قسم کے مبلغین کے ذریعہ غرباء میں تبلیغ ہوتی رہے۔ایسے لوگوں کا سلسلہ پر کوئی خاص بار بھی نہیں پڑسکتا کیونکہ دیہات میں رہنے کی وجہ سے کوئی انہیں دانے دے گا ، کوئی کپڑے اور اس طرح ان کا گزارہ ہوتا چلا جائے گا۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ ہم جس کو بھی تعلیم دلاتے ہیں ، وہ فارغ ہونے کے بعد کہنا شروع کر دیتا ہے کہ مجھے کم سے کم شروع میں تھیں یا چالیس روپے دیں اور چونکہ اتنا روپیہ ہمارے پاس ہوتا نہیں ، اس لئے سب سے ہم فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔اگر زمینداروں میں سے اٹھارہ اٹھارہ بیس بیس سال کی عمر کے لڑکے لے لئے جائیں اور انہیں وہ تمام مسائل ہم اچھی طرح یاد کرا دیں جن کی عام طور پر ضرورت پیش آتی ہے اور وہ مختلف علاقوں میں بیٹھ جائیں اور اپنی اپنی قوم کے لوگوں کو خصوصیت سے تبلیغ کریں تو میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ اس سے ہمارے سلسلہ کو بہت فائدہ ہو۔میں نے تجربہ کیا ہے کہ جائوں میں جاٹ، راجپوتوں میں راجپوت ، گوجروں میں گوجر، پٹھانوں میں پٹھان اور سیدوں میں سید اگر تبلیغ کریں تو بڑا اثر ہوتا ہے مگر یہ ظاہر بات ہے کہ اتنے مبلغ ہم پیدا نہیں کر سکتے۔پس اس کا ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ جائوں اور راجپوتوں اور پٹھانوں اور گوجروں اور سیدوں میں سے نو عمر لڑ کے جو زمیندارہ کام کرتے ہوں لے لئے جائیں اور انہیں موٹے موٹے مسائل سکھا دیے جائیں۔جب وہ یہ مسئلے سیکھ چکیں تو انہیں کہا جائے کہ اب وہ اپنا زمیندارہ کام بھی کریں اور تبلیغ بھی کریں۔