خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 342

خطابات شوری جلد دوم ۳۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء بچوں کو ہرگز قربان نہیں کر سکتے۔اسی نقص کا یہ نتیجہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے عام طور پر تعلیم یافتہ اور آسودہ حال لوگ اپنے بچوں کو مدرسہ احمدیہ میں داخل نہیں کرتے کیونکہ وہ زمانہ کی ضرورت سے مجبور ہیں اور اُن کا نفس اُن کو کہتا ہے کہ لڑکوں کو کچھ انگریزی بھی آنی چاہئے۔اور چاہے ووٹ وہ اس جگہ مدرسہ احمدیہ کی موجودہ شکل کے حق میں دے جائیں مگر ان کے گھر کا ووٹ اس کے خلاف ہوتا ہے کیونکہ وہاں اُن کے اپنے بچے سامنے آجاتے ہیں اور انسان کہہ اُٹھتا ہے کہ اس جگہ بچوں کو داخل کرانے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ دوسرے مدرسہ میں انہیں داخل کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اب مدرسہ احمدیہ صرف غرباء کی تعلیم کا ایک ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔اور اس میں داخل ہونے والے اس لئے داخل نہیں ہوتے کہ وہ علم دین کے حصول کا کوئی شوق رکھتے ہیں بلکہ اس لئے داخل ہوتے ہیں کہ کسی اور جگہ تعلیم پانے کا اُن کے پاس اور کوئی سامان نہیں ہوتا۔غرض یہ وہ ماحول ہے جس میں مدرسہ احمدیہ کے طلباء کو رکھنا چاہئے۔بعض لوگوں نے میری اس تجویز کے خلاف مجھے چٹھیاں لکھی ہیں اور کہا ہے کہ یاد رکھئے کہ اگر آپ نے یہ تبدیلی کی تو لڑکے اس سکول میں نہیں آئیں گے مگر میرا جواب یہ ہے کہ یاد رکھیئے اس کے نتیجہ میں لڑکے آئیں گے اور اچھے بن کر نکلیں گے۔عیسائی پادریوں کو دیکھ لو، انہیں ہر قسم کے علوم پڑھائے جاتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر دنیوی مجلس میں بیٹھ کر اپنا رُعب جما لیتے ہیں اور کہیں شرمندہ نہیں ہوتے مگر ہماری جماعت کے احباب اپنے بچوں کو مدرسہ احمد یہ داخل کرتے وقت دل میں ڈرتے رہتے ہیں اور انہیں خدشہ رہتا ہے کہ کہیں ہمارے بچے گودن نہ ہو جائیں۔اسی لئے کئی لوگ انہیں دوسرے مدرسہ میں داخل کر دیتے ہیں۔اور جب وہ میٹرک کا امتحان پاس کر لیتے ہیں تو کہتے ہیں اب کون انہیں مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت میں داخل کرے۔کوئی بڑا شوقین ہو تو انٹرنس کے بعد عربی تعلیم کی طرف توجہ کرتا ہے ورنہ بالعموم ایسا ہی ہوتا ہے کہ انٹرنس کے بعد لڑ کے پسند نہیں کرتے کہ مدرسہ احمدیہ کی پہلی یا دوسری جماعت میں داخل ہوں۔مبلغین دو قسم کے ہوں ان نقائص کی وجہ سے اب میری رائے یہ ہے کہ آئندہ مبلغ دو قسم کے ہونے چاہئیں۔ایک تو وہ مبلغ ہوں جو نہایت ہی