خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 338

خطابات شوری جلد دوم ۳۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء نے مجھے لکھا کہ فلاں مبلغ نے جھوٹ بولا تھا۔جس پر میں نے اُسے سخت سرزنش کی ہے۔میں تو ناظر صاحب کی یہ رپورٹ پڑھ کر حیران ہی رہ گیا کہ جھوٹ ثابت ہونے کے بعد بھی اُسے مبلغ ہی سمجھ رہے ہیں۔یہ تو ایسی بات ہے جیسے کہا جائے کہ فلاں جگہ کا سپاہی چونکہ مرگیا ہے اس لئے میں نے اُسے سخت سرزنش کی ہے۔کسی کے مرنے کے بعد اُسے سرزنش کرنے کے معنے ہی کیا ہیں۔اسی طرح جو شخص جھوٹ بولتا ہے وہ تو مر گیا، مبلغ ہونا تو بہت بلندشان ہے۔اُنہوں نے سمجھا تھا کہ شاید مجھے شکایت پیدا ہوگی کہ انہوں نے اُسے سرزنش کیوں کی۔اور میرے لئے یہ امر باعث حیرت تھا کہ جس نے ایک دفعہ جھوٹ بول دیا وہ تو مر گیا۔اب وہ تبلیغ کس طرح کر سکتا ہے اور ہمارا مبلغ کیوں کر کہلا سکتا ہے۔وہ تو اب کسی صورت میں بھی ہمارا مبلغ نہیں۔تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے مبلغین کا معیار بلند کرنے کی ضرورت سلفین کا معیار بلند کریں اور ایسے ہی لوگوں کو اپنے انتخاب میں لائیں جو دوسروں کے لئے نمونہ ہوں۔بے شک ایسے مواقع بھی آ سکتے ہیں جب ہمیں یکدم بہت سے مبلغین کی ضرورت پڑ جائے اور اس صورت میں ہم جن کا انتخاب کریں ضروری نہیں کہ وہ نمونہ ہوں۔مثلاً ہمیں یکدم دوسو مولویوں کی ضرورت آپڑے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ بھی اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیں پیش کر دیں۔اس صورت میں ہم ان لوگوں کو بھی لے سکتے ہیں جو نمونہ نہ ہوں۔مگر یہ ضرورت کا قانون ہوگا جو ہر حالت پر اطلاق نہیں پاسکے گا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے شرعاً جائز ہے کہ اگر کسی کے پاس ایک ہی پاجامہ ہو اور اُس پر پیشاب کے چھینٹے پڑے ہوئے ہوں اور نماز کا وقت آ جائے تو وہ اُسی پاجامہ کے ساتھ نماز پڑھ لے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ دوسرے وقتوں میں بھی جب اُس کے پاس صاف پاجامہ موجود ہو یا اُسی کو دھوسکتا ہو، وہ اُسی پاجامہ کے ساتھ نماز پڑھنے لگ جائے کیونکہ یہ اجازت ضرورت کے وقت کے لئے ہے ہر وقت کے لئے نہیں۔عورتوں میں اکثر یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ نماز چھوڑ دیتی ہیں اور جب پوچھا جاتا ہے کہ کیوں نہیں پڑھی؟ تو وہ جواب دیتی ہیں کہ ہمارے کپڑے صاف نہیں، بچے ان پر پیشاب کر دیتے ہیں حالانکہ اس قسم کے غذرات سے نماز کا چھوڑ نا کسی صورت میں جائز