خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 329
خطابات شوری جلد دوم ۳۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء سوال کیا جائے کہ احمدیت کی ترقی کا ذریعہ کیا ہے تو وہ کہہ اُٹھے کہ ہم بغیر قربانی اور جان دینے کے ترقی نہیں کر سکتے اور میں اس کے لئے تیار ہوں ۔ ایک عورت سے اگر پوچھا جائے تو وہ بھی یہی جواب دے اور اگر ایک مرد سے پوچھا جائے تو وہ بھی یہی جواب دے۔ غرض ہر شخص کے ذہن میں یہ باتیں ڈالی جائیں اور اس کے ماتحت جماعت میں ایسا ماحول اور بیداری پیدا کی جائے کہ قربانیاں کرنا کوئی مشکل کام نہ رہے۔ مگر یہ باتیں اس طرح ذہنوں میں داخل نہیں ہوتیں کہ ایک دفعہ کہا اور پھر سال بھر خاموش ہو رہے بلکہ سال کے ۳۶۵ دنوں میں سے ایک دن بھی ایسا نہیں گزرنا چاہئے جب یہ باتیں تم اپنے نوجوانوں، اپنے بچوں ، اپنی عورتوں اور اپنے مردوں کے ذہن نشین نہ کرو۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس کا کتنا اچھا نقشہ کھینچا ہے ۔ آپ اپنی بعثت ثانی کی لوگوں کو خبر دیتے ہیں مگر اس رنگ میں نہیں کہ میں دوبارہ انیس سو سال کے بعد آؤں گا بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ :- ہوشیار رہو اور جاگتے رہو۔ ایسا نہ ہو کہ میں آؤں اور تمہیں سویا ہوا پاؤں مگر یہ جاگنے کا زمانہ کوئی معمولی زمانہ نہیں تھا بلکہ انیس سو سال کا عرصہ تھا۔ پھر آپ دو تمثیل بیان کرتے اور فرماتے ہیں ۔ آسمان کی بادشاہت ان دس کنواریوں کی مانند ہو گی جو اپنی اپنی مشعلیں لے کر دولہا کے استقبال کو نکلیں ۔ ان میں پانچ بے وقوفی اور پانچ عقلمند تھیں جو بے وقوف تھیں اُنہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لیا مگر عقلمندوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کیوں میں تیل بھی لے لیا اور جب دولہا نے دیر لگائی تو سب اونگھنے لگیں اور سو گئیں ( یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ گو میں یہ کہہ رہا ہوں کہ میں جلدی آؤں گا مگر یاد رکھو یہ رات بہت لمبی ہے ) آدھی رات کو دھوم مچی کہ دیکھو دولہا آ گیا، اس کے استقبال کو نکلو۔ اس وقت وہ سب کنواریاں اُٹھ کر اپنی اپنی مشعلیں درست کرنے لگیں اور بے وقوفوں نے عقلمندوں سے کہا کہ اپنے تیل میں سے کچھ ہمیں بھی دے دو کیونکہ ہماری مشعلیں بجھی جاتی ہیں۔ عقلمندوں نے جواب میں کہا کہ شاید