خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 326
خطابات شوری جلد دوم ۳۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ابتلاؤں کی زبر دست پیشگوئی ابھی وہ دس اور پندرہ فیصدی کے چکر میں پھنے ہوئے ہیں اور یہ بات اُن کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی نہیں کہ اُنہیں ملکوں سے نکالا جائے گا ، اُنہیں جائدادوں سے بے دخل کیا جائے گا ، انہیں بیوی بچوں سے علیحدہ کیا جائے گا ، انہیں قید خانوں میں ڈالا جائے گا ، اُنہیں پھانسیوں پر لٹکایا جائے گا اور ان کو مٹانے اور نابود کرنے کے لئے ہر قسم کے ظلم و تشدد کو کام میں لایا جائے گا۔بے شک آج ہندوستان کی حکومت حتی الوسع ان باتوں سے بچتی ہے لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ کل بھی یہی حال رہے گا۔آخر حکومتیں بدلا ہی کرتی ہیں۔منصف کی جگہ ظالم حکومت آجاتی ہے اور ظالم کی جگہ منصف۔مجھے افسوس ہے کہ اتنی اہم اور ضروری باتیں ہمارے سامنے ہیں اور ہم دس پندرہ فیصدی کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے قربانیاں کر لیں حالانکہ ضروری ہے کہ جماعت پر اس قسم کے ابتلاء آئیں۔مگر یہ کوئی ضروری نہیں کہ ہندوستان میں ہی آئیں۔ان میں سے بعض ابتلاء ہندوستان میں آسکتے ہیں ، بعض چین میں آ سکتے ہیں ، بعض جاپان میں آ سکتے ہیں ، بعض روم میں آ سکتے ہیں، بعض افریقہ میں آ سکتے ہیں اور بعض امریکہ اور دوسرے ممالک میں آسکتے ہیں۔افغانستان میں بھی اس قسم کے بعض ابتلاء جماعت پر آئے مگر ان ابتلاؤں میں افغانستان کی کوئی خصوصیت نہیں۔مختلف رنگوں میں مختلف ممالک میں ابتلاء آ سکتے ہیں اور آئیں گے اور ہر جگہ جماعت کو مختلف رنگ میں قربانیاں کرنی پڑیں گی۔مثلاً اس وقت ہمارے سلسلہ پر بعض حکام کی طرف سے جو پے درپے حملے ہو رہے ہیں، ان کے مقابلہ میں ایک دن ہمیں ضرور بولنا پڑے گا اور یہ ناممکن ہے کہ ہم لمبے عرصہ تک خاموش رہ سکیں۔ایک ذلیل مجسٹریٹ جو دن میں پچاس دفعہ جھوٹ بول لیتا ہے وہ اُٹھتا ہے اور نہایت بے باکی سے کہنا شروع کر دیتا ہے کہ احمدی جھوٹے ہوتے ہیں۔پھر ایک اور افسر اُٹھتا ہے اور اُس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ رشوت اُس کا اوڑھنا، رشوت اُس کا بچھونا ، رشوت اُس کا کھانا ، رشوت اُس کا پینا، رشوت اُس کا لباس، رشوت اُس کا مکان، رشوت اُس کی زمین اور رشوت اُس کا سامان ہوتا ہے، اُسے جھوٹ سے کوئی عار نہیں ہوتا اور وہ سچائی کے کبھی قریب بھی نہیں گیا ہوتا مگر کہتا یہ ہے کہ یہ خلیفہ کے نوکر ہیں اور جب