خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 19
خطابات شوری جلد دوم ۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء تمیں پچیس سال پہلے خدا تعالیٰ کے نبی نے یوں کہی یہ بھی روز روز میتر نہیں آتا۔جو روحانیت اور قرب کا احساس اُس شخص کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ آج سے تمہیں سال پہلے خدا تعالیٰ کے مامور اور مُرسل نے یہ فرمایا تھا اُس شخص کے دل میں کیونکر پیدا ہوسکتا ہے جو یہ کہے کہ آج سے دو سو سال پہلے خدا تعالیٰ کے فرستادہ نے فلاں بات یوں کہی تھی۔کیونکہ دوسو سال بعد کہنے والا اس کی تصدیق نہیں کر سکتا لیکن ہیں تھیں سال بعد کہنے والا اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔جماعت متحد الخیال ہو جائے پس ضرورت ہے اس بات کی کہ جماعت متحد الخیال ہو کر خلیفہ کو اپنا ایسا استاد سمجھے کہ جو بھی سبق وہ دے اُسے یاد کرنا اور اس کے لفظ لفظ پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھے۔اتحادِ خیالات کے ساتھ قومیں بہت بڑی طاقت حاصل کر لیا کرتی ہیں ورنہ یوں نظام کا اتحاد بھی فائدہ نہیں دیتا جب تک اتحاد خیالات نہ ہو۔یورپ کا حال کا تجربہ دیکھ لو۔اٹلی یورپ میں ذلیل ترین حکومت سمجھی جاتی ہے لیکن جب مسولینی نے اٹلی میں اتحادِ خیالات پیدا کیا تو آج اٹلی کے لوگ کہتے ہیں کہ یورپ کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اور اتنا تو ہم نے بھی دیکھا ہے کہ شیر انگلستان جس کے چنگھاڑنے سے کسی وقت دُنیا کانپ جاتی تھی، اسے بھی اٹلی کے مقابلہ میں آکر دُم دبانی ہی پڑی۔یہ ایک کھلا ہوا راز ہے کہ اُس وقت انگریزی حکومت لڑائی کو ضروری سمجھتی تھی اور وہ محسوس کرتی تھی کہ اس کی ذلت ہوئی ہے مگر اس کے افسران نے کہہ دیا کہ اگر اس وقت اٹلی سے لڑائی شروع کی گئی تو اس کا نتیجہ خوش کن نہ ہوگا اور ہم لڑائی کے لئے تیار نہیں ہیں۔اس میں شک نہیں کہ یہ کمزوری صرف اس لئے نہ تھی کہ اٹلی طاقتور ہے بلکہ اس لئے تھی کہ اور طاقتیں بھی اندرونی طور پر اٹلی کے ساتھ تھیں۔مگر ایک زمانہ کا انگلستان وہ تھا کہ دوسری طاقتوں کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھتا تھا۔اس قدر طاقت اٹلی کو کہاں سے حاصل ہوئی؟ اسی سے کہ مسولینی نے اٹلی والوں میں اتحادِ خیالات پیدا کر دیا۔بے شک اس کے لئے اس نے جبر سے کام لیا۔اپنے مخالفین کو قتل کرایا، اُن کی جائدادیں چھین لیں اور اُن کی اولادوں پر قبضہ کر کے اُن کے خیالات کو ایک طرف لگا دیا لیکن ذرائع خواہ کچھ ہوں اُس نے یہ کام کیا اور کامیاب ہو گیا۔یہی بات ہٹلر نے جرمنی