خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 321

خطابات شوری جلد دوم ۳۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء پطرس کی قربانی دیکھو وہی پطرس جس نے کہا تھا میں نہیں جانتا مسح کون ہے اور جس نے آپ پر لعنت بھیجی ، وہی پطرس ایک لمبے عرصہ کے بعد روم میں صلیب دیا جاتا ہے اور جس وقت وہ صلیب کی طرف بڑھتا ہے اُس کی لکڑی کو بوسہ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ میری نجات کی چیز ہے۔تو ہم اس قسم کی مثالوں سے اپنے نفس کو دھوکا دیتے ہیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جہاں اس قسم کے واقعات بیان کئے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی قربانیوں کے مقابلہ میں بیان کئے ہیں مگر ہم میں سے بعض لوگ اس سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے اور یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ عیسائیوں نے کوئی قربانیاں نہیں کیں حالانکہ عیسائیوں نے جو قربانیاں کیں وہ بہت ہی شاندار ہیں۔ایک دفعہ کوئی شخص روم کی کٹا کو مبز کو دیکھ آئے پھر اگر وہ مہینوں حیرت میں نہ پڑا رہے تو میرا ذمہ رہا۔وہ بالکل گیلے کمرے ہیں جو زمین کو اسی اسی فٹ تک کھود کر بنائے گئے ہیں۔جہاں سورج کی ایک شعاع تک نہیں پڑتی۔وہ اس جگہ ایک لمبا عرصہ رہے ہیں۔یہ وہ قربانیاں تھیں جن کے بعد عیسائیت نے ترقی کی اور یہ وہ قربانیاں ہیں جن کے نتیجہ میں باوجود شرک و کفر کے عیسائی قوم کو حکومت کے لئے خدا نے ایک لمبا عرصہ دے دیا۔میں سمجھتا ہوں کہ جب بھی عیسائیوں کی تباہی کا وقت آتا ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ ہزاروں روحیں آکر کھڑی ہو جاتی ہیں جنہوں نے اُس کے لئے قربانیاں کیں اور خدا اُن کو دیکھ کر کہتا ہے کہ میری خاطر جنہوں نے اتنی عظیم الشان قربانیاں کی ہیں اُن کی نسلوں کو مجھے کچھ اور مہلت دے دینی چاہئے۔اگر نیکی اور تقویٰ پر قربانیاں ہوں تو اُن کے جو نتائج نکل سکتے ہیں وہ محتاج بیان نہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام وہ آخری نبی ہیں جن پر سلسلہ موسویہ ختم کیا گیا اور ایک نئے سلسلے کا آغاز رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا اور عام طور پر لوگوں کی بعد میں آنے والے سلسلہ سے عداوتیں زیادہ ہوتی ہیں لیکن اس زمانہ کے عیسائیوں میں سے ہی بعض کی بھی قرآن کریم میں اللہ تعالی تعریف کرتا اور ان کی سفارش کرتا ہے۔مگر یہ کس بات کا نتیجہ ہے؟ یہ نتیجہ ہے اُن قربانیوں کا جو انہوں نے کیں۔کامیابی کے لئے قربانیوں کی ضرورت پس ہماری جماعت کو ہمیشہ یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے۔اگر وہ سمجھتے ہیں کہ بغیر