خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 315

خطابات شوری جلد دوم دور ویا ۳۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء تھوڑے ہی دن ہوئے ایک رویا میں نے دیکھا جو بعض دوستوں کو سنا بھی دیا تھا۔اس رؤیا کو سنائے آج پانچواں دن ہے مگر اس سے بھی آٹھ دن پہلے میں نے یہ رویا دیکھا تھا۔اُس وقت جو حالت تھی وہ دراصل رؤیا کی نہیں تھی۔سوتے سوتے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے دیکھا کہ نیم غنودگی کی حالت میں میں سورہ نوح کی چند آیتیں چھوڑ کر باقی آیتیں اس طرح پڑھ رہا ہوں کہ گویا ایک طرف لوگوں کو ان آیات کے ساتھ مخاطب کر رہا ہوں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا ہوں۔مجھے سورۃ نوح حفظ نہیں ہے مگر اُس وقت بلا تکلف اس کی آیات پڑھتا جاتا ہوں۔چنانچہ جو آیات میں نے اُس وقت تلاوت کیں، اُن میں سے بعض مجھے اب تک یاد ہیں۔مثلاً یہ کہ رب اتي دعوتُ قَوْمِي ليلًا و نَهَارًا فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَاء في الافرادا اور یہ بھی کہ تم إني أعلنتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا من بعض آیات مجھے اس وقت بوجہ اس کے کہ ساری سورۃ مجھے حفظ نہیں زبانی یاد نہیں لیکن یہ یقینی طور پر یاد ہے کہ صرف چند آیات چھوڑ کر باقی ساری سورۃ میں نے پڑھی ہے۔اس واقعہ سے میں نے سمجھا کہ کوئی ابتلاء ہے جو بہت بڑا ہے اور جس میں دشمن سے ہمیں سخت مقابلہ کرنا پڑے گا مگر میری عادت نہیں کہ میں ایسی باتوں کا اظہار کرتا پھروں۔اس کے آٹھ دن بعد پھر میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں اور خواب میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ بعض لوگ بھی وہاں ہیں مگر یہ کہ وہ کون ہیں، یہ مجھے یاد نہیں رہا۔صرف اتنا سمجھتا ہوں کہ اور لوگ بھی ہیں اور ہم ایک کشتی میں بیٹھے ہیں جو سمندر میں ہے اور سمندر بہت وسیع ہے۔اُس کے ایک طرف اٹلی کی مملکت ہے اور دوسری طرف انگریزوں کی۔اٹلی کی مملکت شمال مغربی طرف معلوم ہوتی ہے اور انگریزی علاقہ مشرق کی طرف اور جنوب کی طرف ہٹ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ کشتی اُس جانب سے آ رہی ہے جس طرف اٹلی کی حکومت ہے اور اس طرف جا رہی ہے جس طرف انگریزوں کی حکومت ہے۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ یکدم شور اُٹھا اور گولہ باری کی آواز آنے لگی اور اتنی کثرت اور شدت سے گولہ باری ہوئی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا ایک گولے اور دوسرے گولے کے چلنے میں کوئی فرق نہیں ہے اور یکساں شور ہو رہا ہے۔میں نے دیکھا کہ گولے متواتر پڑ رہے تھے۔