خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 310
خطابات شوری جلد دوم ۳۱۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء نظر انداز بھی ہو جاتی ہے، دراصل بہت بڑی ہوتی ہے۔ایک چیونٹی اگر کسی کے کان میں گھس جائے تو اُسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ بڑے زور سے ڈھول بج رہے ہیں۔لیکن دُور بجنے والے ڈھولوں کی آواز محض بھنک کے طور پر اُس کے کان میں پڑتی ہے۔ایک ٹھیکری بھی انسان اگر اپنی آنکھ پر رکھ لیتا ہے تو ساری دُنیا اُس کی نگاہ سے اوجھل ہو جاتی ہے لیکن میلوں دور جو بڑے بڑے پہاڑ ہوتے ہیں اور جن کی چوٹی پر پہنچنے کا خیال تو الگ رہا اُن کے نصف تک پہنچنے کے خیال سے ہی انسان کا دل کانپنے اور لرزنے لگتا ہے، وہ اُسے نظر نہیں آتے۔تو عقلمند قوم وہ ہوتی ہے جو اُن چیزوں کو اپنی نظر کے سامنے رکھتی ہے جو دقت کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں لیکن جذباتی آدمی صرف اُن چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے سامنے ہوتی ہیں۔فرض کرو ایک آدمی میدانِ جنگ میں اس لئے بھیجا جاتا ہے کہ وہ جائے اور کمانڈر انچیف کو یہ اطلاع دے کہ دشمن ایک لشکر جرار کے ساتھ حملہ آور ہونے والا ہے اُس کے مقابلہ میں اپنی حفاظت اور بچاؤ کا سامان کر لو۔تو بالکل ممکن ہے اُس شخص کی جان کے ساتھ دس ہزار یا بیس ہزار یا پچاس ہزار یا ایک لاکھ آدمیوں کی جانیں وابستہ ہوں۔مگر جاتے ہوئے اُسے راستے میں اگر کوئی شخص گالی دے دیتا ہے اور وہ اُس سے لڑ پڑتا ہے اور اسی لڑائی میں مارا جاتا ہے تو بظاہر ایک شخص جو حقیقت سے ناواقف ہو کہہ سکتا ہے کہ دیکھو! یہ کتنا غیرت مند تھا اس نے گالی سنی مگر اسے برداشت نہ کر سکا لیکن حقیقتا وہ اپنے ملک کا غدار ہوگا کیونکہ اُس نے دس ہزار یا ہمیں ہزار یا پچاس ہزار یا ایک لاکھ آدمیوں کی جانوں کو اپنے عمل سے خطرہ میں ڈال دیا ہے اور اگر دشمن کے حملہ کے نتیجہ میں وہ لوگ مارے جاتے ہیں تو یقیناً اس کا ذمہ دار وہی ہے۔محض اس لئے کہ اُس نے وقتی مصیبت کو اہمیت دے دی اور بڑی مصیبت کو نظر انداز کر دیا لیکن اکثر دُنیا میں یہی قاعدہ جاری ہے۔بلکہ سوائے عارفین کے عام لوگ وقتی ضرورت کو اہمیت دیتے اور مستقبل میں رونما ہونے والے امور کو نظر انداز کر کے عارفین کی باتوں کو نادانی کا خیال قرار دے دیتے اور کہتے ہیں کہ وہمی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دُنیا میں وہمی بھی ہوتے ہیں اور وہ خیالی تصویریں کھینچ کھینچ کر اہم اور ضروری باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور یہ لوگ بھی خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ وہ جو ڈراؤنی تصویریں کھینچتے ہیں خیالی ہوتی ہیں لیکن حقیقی خطرہ خواہ تھوڑا ہو خیالی نہیں