خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 308
خطابات شوری جلد دوم ۳۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء جس قدر ترقی ملے گی وہ میں اپنی ذات پر نہیں بلکہ سلسلہ کی ضروریات پر خرچ کروں گا۔تو بیرونجات کے دوستوں نے بھی اپنے اخلاص کا اظہار کیا ہے۔گو انہیں یہ موقع نہیں ملا کہ وہ متفقہ طور پر اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے اور پھر وہ کسی ایک نظام کے ماتحت بھی اس طرح نہیں جس طرح صدر انجمن احمدیہ کے کارکن ہیں۔مگر بہر حال دوستوں کے اندر قربانی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔میاں عطاء اللہ صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ کاش جماعت کے دوسرے احباب بھی ایسا نمونہ دکھاتے۔سو جہاں تک میں سمجھتا ہوں إِلَّا مَا شَاءَ الله اکثر احباب کے دلوں میں اس کا احساس ہے اور وہ ارادہ رکھتے ہیں کہ اپنی قربانی کا کوئی نمونہ پیش کریں۔احباب جماعت کا اخلاص میں نے جب وہ خطبہ پڑھا جس میں صدر انجمن احمدیہ کے کارکنان کی تنخواہیں کم کر دینے کا ذکر تھا تو میرے پاس رپورٹیں پہنچیں کہ احرار اور مرتدین میں سے بعض نے یہ کہا ہے کہ خدا نے ان کے لئے یہ ایک خاص موقع بہم پہنچا دیا ہے۔اب جو نہی انہوں نے اس قسم کی تخفیف کا اعلان کیا جماعت کا ایک معتد بہ حصہ ہمارے ساتھ مل جائے گا۔میں نے جب یہ بات سنی تو میں نے کہا کہ میرے لئے بھی خدا نے یہ ایک موقع پیدا کیا ہے تا دشمن پر میں یہ ظاہر کروں کہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی حالت میں بھی ڈگمگانے والی نہیں۔سو خدا تعالیٰ نے واقعہ میں وہ نمونہ دکھا دیا اور میں دیکھتا ہوں کہ کارکنوں کی بہت بڑی اکثریت نے نہ صرف اس کمی کو خوشی سے قبول کیا ہے بلکہ دس بارہ تو ایسے ہیں جنہوں نے لکھا ہے کہ ہم اس کمی کو اس حد تک قبول کرنے کو تیار ہیں کہ ہمیں صرف گزارہ دیا جائے جتنا تحریک جدید کے کارکنوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے۔گو یا وہ صرف پندرہ روپے لینے کے لئے بھی تیار ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص کے لحاظ سے جماعت کی اکثریت ایسے مقام پر ہے کہ اس کو کوئی ٹھو کر نہیں لگ سکتی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض کمزور طبع بھی ہوتے ہیں اور پھر بعض منافق ہوتے ہیں اور وہ ہرا لہی سلسلہ میں ہوتے ہیں مگر منافقوں کا وجود کوئی انوکھی بات نہیں۔کئی لوگ ایسے ہیں جو میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا قادیان میں بھی منافق ہو سکتے ہیں؟ میں انہیں کہتا ہوں قرآن موجود ہے اسے کھول کر دیکھ لو۔وہاں یہی لکھا ہے کہ مدینہ میں بھی منافق موجود تھے۔اور یہ تو ایک ایسا