خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 307

خطابات شوری جلد دوم ۳۰۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء نہایت مفید اور با موقع حوالہ جات کا انتخاب کرنے میں مہارت رکھتا ہے تو اُس کی محنت کو معمولی قرار دینا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔تو یہ غلط طریق ہے کہ جس فن میں انسان کو مہارت نہ ہو اُس کے متعلق رائے زنی شروع کر دے۔بجٹ میں جو زیادہ بقائے دکھائے گئے ہیں اُس کے متعلق میں نظارت بیت المال کو توجہ دلاتا ہوں اور اُسے تاکید کرتا ہوں کہ وہ غلطی کو نکالے۔اسی طرح بعض دوستوں نے شکایت کی ہے کہ یہاں کے دفاتر سے اُن کی چٹھیوں کا یا تو جواب نہیں دیا جاتا یا غلط دیا جاتا ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ اس قسم کی تمام شکائتیں تحقیقاتی کمیشن کے پاس آنی چاہئیں۔آگے یہ تحقیقاتی کمیشن کا کام ہے کہ وہ تحقیق کے بعد میرے پاس رپورٹ کرے۔بعض دوستوں نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ جو محکمہ مفید کام نہ کرے اُس محکمہ کو امداد نہ دی جائے۔مگر یہ محکمہ کو سزا نہیں بلکہ سلسلہ کو ہے۔مثلاً اگر ہم سکول کو امداد نہ دیں تو ہیڈ ماسٹر کا کیا ہے، وہ کمروں کو تالا لگائے گا اور کہیں دوسری جگہ نوکری کر لے گا۔فرض کر و الفضل والوں سے کوئی غلطی ہو گئی ہے اور سزا یہ دی گئی ہے کہ الفضل کو امداد نہ دی جائے ، تو الفضل بند ہو جائے گا اور ایڈیٹر کہیں اور نوکری کر لے گا۔پس اس قسم کا مشورہ بغیر کافی غور کئے دینا مفید نہیں ہوتا۔کیونکہ یہ سزا سلسلہ کو ہوگی اور کام درہم برہم ہو جائے گا۔“ کارکنوں کی قربانی پر رشک میاں عطا اللہ صاحب نے اپنے اخلاص کا جو اظہار کیا ہے کہ کاش! میں بھی ویسی ہی قربانی کر سکتا جیسی کارکنوں نے کی ہے۔وہ بہت قابلِ تعریف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کارکنوں کی قربانی کے نتیجہ میں جماعت کے دوستوں کے دلوں میں بھی یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ انہیں بھی قربانی کا کوئی نمونہ دکھانا چاہئے چنانچہ کل سے میرے پاس کئی جماعتوں کے نمائندگان کی طرف سے رقعے آرہے ہیں کہ ہم اس اس رنگ میں قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ایک دوست نے تو لکھا ہے کہ میری اس قدر تنخواہ ہے آپ اس میں سے جو گزارہ میرے لئے مقرر کر دیں گے وہ رکھ کر باقی سب تنخواہ میں اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے مرکز میں ارسال کرنے کے لئے تیار ہوں۔ایک دوست نے لکھا ہے کہ آئندہ مجھے تین سال تک