خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 306

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء سمجھا کہ شاید یہ کام آپ ہی آپ ہو جاتا ہے حالانکہ حوالجات نکالنے اور پھر مضمون کے مطابق حوالجات نکالنے میں بہت بڑی محنت صرف ہوتی ہے۔یہی دیکھو قرآن کریم کی کئی کا پیاں چھپی ہوئی موجود ہیں مگر بعض دفعہ ایک ایک آیت نکالنے کے لئے دو دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔حوالہ جات میں تائید الہی جلسہ سالانہ پر میں زیادہ سے زیادہ چھ گھنٹے تقریر کرتا تائید ہوں مگر وہ تقریر ایک لمبی تحقیق کا نتیجہ ہوتی ہے۔اس دفعہ مجھے نوٹ لکھنے کے لئے فرصت نہیں ملتی تھی۔میں نے اس کا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے ذکر کیا تو وہ ہنس کر کہنے لگے میں نے تو دیکھا ہے جب حضور کو فرصت نہ ملے اُس وقت خدا تعالیٰ کی خاص تائید ہوتی ہے۔چنانچہ واقعہ میں ایسا ہوا کہ جب میں نوٹ لکھنے بیٹھا جس کے لئے بہت سے حوالوں کی ضرورت تھی تو وہ حیرت انگیز طور پر جلد جلد نکلتے گئے۔بعض دفعہ میں کتاب کھولتا تو اُس کا وہی صفحہ نکل آتا جس کی مجھے ضرورت ہوتی۔حتی کہ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ بعض حوالہ جات کی ضرورت پیش آتی مگر میرا ذہن اُدھر نہ جاتا تھا کہ وہ حوالہ جات کس کتاب میں سے ملیں گے۔ارادہ تھا کہ بعض اور دوستوں کو بلا کر حوالہ جات کی تلاش کا کام سپرد کر دوں کہ اتفاقاً کسی اور کتاب کی تلاش کے لئے میں نے کتابوں کی ایک الماری کھولی۔اس میں چند کتابیں بے ترتیب طور پر گری ہوئی تھیں انہیں ٹھیک کرنے کے لئے اُٹھایا تو ان میں سے ایک کتاب مل گئی جس کے لائبریری میں ہونے کا بھی مجھے علم نہ تھا اُسے کھول کر دیکھا تو اس میں اکثر وہ حوالے موجود تھے جن کی مجھے ضرورت تھی۔غرض اس طرح حوالوں کا ملنا ایک الہی تصرف ہوتا ہے ورنہ تھوڑی دیر میں ایسے حوالے نہیں نکل سکتے بلکہ ان کے لئے گھنٹوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔حوالہ جات کے علم کی اہمیت معترض صاحب اس بات پر غور کر لیں کہ مجالس شوری کی رپورٹوں کا حجم کوئی زیادہ نہیں ہے مگر اس کے حوالے زیادہ تر انہیں اور ان کے بھائی صاحب کو ہی یاد ہیں، باقی لوگوں کو یاد نہیں۔اس سے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ حوالہ جات کا علم کتنا ضروری ہوتا ہے اور کس قدر کم لوگوں کو ہوتا ہے پھر اگر کسی کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات سے