خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 299
خطابات شوری جلد دوم ۲۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء رکھتے ہوئے اگر جماعت غور کرے تو اس رقم میں کچھ زیادتی کر سکتی ہے ورنہ مبلغین کومختلف اضلاع میں پھیلانے کے لئے پندرہ سو کافی ہے۔“ بجٹ پر بحث کے بعد حضور کی تقریر سب کمیٹی کی طرف سے مجوزہ بجٹ پیش ہونے پر چند احباب نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔اسی دوران میں ایک صاحب نے عملہ الفضل کی کارکردگی کو بھی ہدف تنقید بنایا۔بحث کے اختتام پر حضور نے اپنی تقریر میں مالی امور کے علاوہ اس بات کا بھی جائزہ لیا اور وو فرمایا: - یہ جو سوال کیا گیا ہے کہ بجٹ وقت پر کیوں نہیں پہنچا اس کا جو اصل جواب تھا افسوس ہے کہ وہ نظارت کی طرف سے نہیں دیا گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کچھ دیر کارکنوں کی طرف سے بھی ہوئی ہے مگر جس امر کی وجہ سے بہت زیادہ دیر ہوئی وہ یہ ہے کہ بجٹ تیار ہونے کے بعد میں نے صدر انجمن احمدیہ کو ہدایت دے دی کہ موجودہ بجٹ اُن اصول پر تیار ہونا چاہئے جو میں نے تجویز کئے ہیں۔اور چونکہ میں نے یہ ہدایت ایسے وقت میں دی جبکہ پہلا بجٹ وہ تیار کر چکے تھے اس لئے ان کے لئے ضروری تھا کہ میری تجویز کے مطابق بجٹ میں تغیر کرتے۔یہ تغیر کوئی معمولی نہیں تھا جو آسانی سے ہوسکتا بلکہ پچاس ساٹھ ہزار روپیہ کی کمی انہوں نے کرنی تھی۔جس سے علاوہ اس ذہنی کوفت کے جو ان کو ہوئی بہت سا وقت بھی خرچ ہوا۔اور بڑی مشکل سے انہوں نے بجٹ تیار کیا کیونکہ میں نے سارا مواد انہیں نہیں دیا تھا بلکہ چند ہدایتیں دے دی تھیں کہ ان اصول پر عمل کریں۔پس ایک طرف انہوں نے بجٹ کو اُس طرز پر ڈھالنا تھا جو میں نے تجویز کی تھی اور دوسری طرف اس میں کافی کمی کرنی تھی اور یہ ایسی مشکلات تھیں کہ جن کی وجہ سے بعض دفعہ انہیں مایوسی بھی ہوئی مگر بالآخر وہ کامیاب ہو گئے۔پس گو شروع میں کارکنوں کی طرف سے سستی ہوئی مگر آخر میں جو دیر ہوئی وہ اس وجہ سے ہوئی ہے کہ بجٹ کو میری ہدایات کے ماتحت انہیں نئی طرز پر ڈھالنا پڑا۔اور اس میں ان کا بہت زیادہ وقت خرچ ہو ا۔پس یہ اعتراض جوان پر کیا گیا ہے یہ جائز نہیں۔ہاں تسلیم کیا ہے کہ بعض کارکنوں نے انہیں وقت پر