خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 291

خطابات شوری جلد دوم ۲۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء سب کمیٹی مجلس مشاورت نے مبلغین کی تیاری اور تقرر کے بارہ میں ہدایات چھی تجویز کہ: - د مبلغین کی کانٹ چھانٹ کی جائے“ کو مناسب قرار دیا۔نمائندگان مجلس نے بھی سوائے ایک کے سب نے اس کے حق میں رائے دی۔اس کی ضرورت اور پس منظر واضح کرتے ہوئے حضور نے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور نہایت قیمتی ہدایات سے جماعت کو نوازا۔اس تجویز کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : - " چوتھی تجویز مبلغین کی کانٹ چھانٹ کے متعلق ہے۔اس کے متعلق کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتا ہوں کہ اس کانٹ چھانٹ سے کسی کو نقصان نہیں ہے، صرف الاؤنس والوں کو الگ کیا گیا ہے اور یہ دراصل بے قاعد گی تھی جس کا ازالہ کیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک ناظروں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ قانون کا احترام کرنا چاہئے۔مومن روحانی لحاظ سے چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی دیکھتا ہے۔ایک صوفی کے متعلق لکھا ہے کہ اُس کا گھوڑا جب کبھی چلتے چلتے رک جاتا تھا تو اس کی توجہ اس طرف پھرتی تھی کہ میرے ماتحت میرے منشاء کے خلاف رُکتا ہے، شاید میں نے اپنے مالک (خدا) کی مرضی کے خلاف کوئی کام کیا ہے۔مگر میں عام طور پر دیکھتا ہوں کہ ناظر بالعموم اصطلاحی بہانوں سے شوری کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور قانون توڑتے ہیں۔بعض ناظر دوسروں کے اثرات کو قبول کر لیتے ہیں اور اس اثر کے ماتحت ان کے گزارہ کی کوئی صورت پیدا کر لیتے ہیں۔مثلاً سفر خرچ کے بجٹ سے الاؤنس دے دیتے ہیں۔میں بار بار شوری میں کہہ چکا ہوں کہ ایسے الاؤنس نا جائز ہیں اور ایسی باتوں سے نحوست پیدا ہوتی ہے۔جب ایک فیصلہ کیا گیا ہے کہ صرف ہمارے پاس شدہ مبلغ ہی لئے جائیں اور اگر کوئی دوسرا لینا ہے تو باقاعدہ اُس کی منظوری لی جائے تو پھر کیوں ایسا نہیں ہوتا۔جماعتیں تو انتظار میں رہتی ہیں اور چینی رہتی ہیں کہ مبلغ نہیں پہنچتا۔لیکن جب سفر خرچ