خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 290
خطابات شوری جلد دوم ۲۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء فیصلہ نہیں۔اسی طرح لائل پور اور سرگودھا والوں کے ذمہ یہ بات ڈال دی جائے کہ وہ سارا گھی جمع کرتے رہیں اور میں تو سمجھتا ہوں اگر ضلع لائل پور اور سرگودھا کے دوست وہی گھی جو اپنے سروں پر لگایا کرتے ہیں چند دن نہ لگا ئیں اور جمع کرتے رہیں تو اُسی سے کئی کنستر بھر سکتے ہیں۔بہر حال زمینداروں سے جنس کی صورت میں اور شہریوں سے روپیہ کی صورت میں اس چندہ کی وصولی کی جائے۔جنس کی صورت میں زمینداروں سے چندہ لینے کا ایک یہ بھی فائدہ ہوسکتا ہے کہ ایک زمیندار جو چار آنے چندہ دے سکتا ہے اُسے اگر جنسکی صورت میں چندہ دینے کے لئے کہا جائے تو بالکل ممکن ہے وہ دو روپے کی مرچیں دے دے اور اس طرح اُس کا چندہ بہت بڑھ جائے۔اسی طرح بعض ضلعوں کے سپرد ماش کی دال کی جائے۔کسی کے سپر د روشنی کا خرچ کیا جائے۔کسی کے سپر د دوسری اجناس کی جائیں۔اس طرح بہت سہولت سے چیزیں جمع ہوسکتی ہیں۔ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ دس فیصدی سے زیادہ چندہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور میری اپنی رائے یہی ہے کہ اخراجات میں اور بھی کمی ہوسکتی ہے لیکن اگر خرچ کم نہ ہو تب بھی دس فیصدی چندہ اخراجات کے لئے بالکل کافی ہے۔مگر دس فیصدی چندہ کا یہ مطلب نہیں کہ جو پندرہ فی صدی چندہ دے سکتا ہے وہ بھی نہ دے۔جو شخص پندرہ فیصدی چندہ دیتا ہے اُس کا خدا کے پاس اجر ہے اور ہم اس کے اجر کے راستے میں روک نہیں بن سکتے۔پس اس شرح میں اگر کوئی شخص خوشی سے زیادتی کرنا چاہے تو وہ ہر وقت کر سکتا ہے لیکن وہ لوگ جو دس فیصدی چندہ نہیں دیتے اُنہیں ہم مجبور کریں گے کہ وہ دس فیصدی چندہ ضرور دیں اور اگر اجناس بھی ملا لی جائے تو عُرس والوں کی طرح اخراجات کے بعد بہت سی رقم ہمارے پاس بیچ بھی جائے گی۔