خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 289

خطابات شوری جلد دوم ۲۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء کی یہ تجویز منظور کرتا ہوں کہ آئندہ چندہ جلسہ سالانہ لازمی ہوگا، وہاں بجائے پندرہ فی صدی کے میں دس فیصدی مقرر کرتا ہوں۔اگر دس فی صدی چندہ پوری جد وجہد اور کوشش سے وصول کیا جائے تو تمہیں ہزار روپیہ کے قریب وصول ہو سکے گا۔اور ہما را موجودہ خرچ اس سے کم ہے۔بعض دوستوں نے کہا ہے کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی اگر کچھ چندہ جمع کر لیا جائے تو اُس وقت بہت سے لوگ کچھ نہ کچھ دے دیتے ہیں۔میرے نزدیک اس تجویز کو اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔پہلے یہ دستور ہوا کرتا تھا مگر پھر اسے بند کر دیا گیا۔اب پھر اسے جاری کر کے دیکھ لیا جائے۔میرے نزدیک اس طرح دو چار ہزار روپیہ آسانی سے جمع ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں مگر میرے نزدیک ایک اور تجویز کو بھی مدنظر رکھ لیا جائے اور وہ یہ ہے کہ مجھے ہمیشہ خیال آتا ہے کہ ضلع گورداسپور پر مہمان نوازی کاسب سے زیادہ فرض عائد ہوتا ہے۔پس اگر ضلع گورداسپور کے احمدیوں کے سپرد یہ کیا جائے کہ اُنہوں نے مثلاً جلسہ سالانہ کے لئے گیہوں مہیا کرنا ہے تو یہ زیادہ مناسب ہوگا۔اس میں کوئی فخر کی بات نہیں کہ میں جو جلسہ سالانہ کا چندہ دیتا ہوں وہ میری اصل آمد کا قریباً سو فیصدی ہوتا ہے اور یہ اس لحاظ سے ہے کہ میں سمجھتا ہوں در حقیقت مہمان نوازی کا فرض شریعت کی رو سے ہم پر عائد ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔پس اگر ہمارے گورداسپور کے ضلع کی احمد یہ جماعتوں کے ذمہ یہ بات ڈال دی جائے کہ وہ گیہوں مہیا کریں اور روپیہ کی بجائے۔جنس کی صورت میں ہی ان کا چندہ وصول کر لیا جائے تو میں سمجھتا ہوں آمد انشاء اللہ بہت زیادہ ہوگی۔ناظر صاحب ضیافت یہاں بیٹھے ہیں کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ جلسہ سالانہ پر کتنا گیہوں خرچ ہوتا ہے۔“ ناظر صاحب ضیافت : ۸۰۰ امن۔اٹھارہ سو من گیہوں کا جمع کرنا ضلع گورداسپور کے احمدیوں کے لئے کوئی بڑی بات