خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 288
خطابات شوری جلد دوم ۲۸۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء قافیہ نہیں ملا۔وہ کہنے لگا قافیہ تو نہیں ملا مگر کو لہو اتنا وزنی ہے کہ اس کا سرتوڑ دے گا۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں وہ بھی مطالبہ تو پندرہ فی صدی کا کرتے رہے مگر دل میں یہ خیال کر لیا کہ اگر آٹھ دس فیصدی بھی چندہ آ گیا تو کام بن جائے گا حالانکہ پندرہ فی صدی کی نسبت سے ۴۵ ہزار روپیہ آنا چاہئے تھا اور ان کا خرچ اس وقت ہمیں چھپیس ہزار ہے۔اگر لوگ اس اصل پر روپیہ دیتے تو ان کے پاس روپیہ بیچ بھی جاتا۔مگر انہوں نے جس نیت سے مانگا تھا اُسی کے مطابق انہیں چندہ ملا۔میرا خیال ہے ۱۹۲۶ء یا ۱۹۲۸ء کی بات ہے کہ اُس وقت بھی میں نے کہا تھا کہ یہ طریق غلط ہے مگر اُس وقت بھی مجھے یہی جواب دیا گیا تھا کہ چونکہ سب لوگ چندہ دیتے نہیں اس لئے ہم زیادہ چندہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ اس طریق سے چندہ لینے کی کیا ضرورت ہے۔اب بھی جو پندرہ فی صدی چندہ لگایا گیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ جلسہ سالانہ کا خرچ زیادہ ہے پھر بھی یہ شرح زیادہ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر اخراجات کی نگرانی کی جائے تو خرچ میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں جیسا کہ بعض نادان کہا کرتے ہیں کہ اخراجات میں کمی کی تجویز یہ ہے کہ قانون بنا دیا جائے کہ سب کو ایک ایک روٹی ملا کرے گی۔یہ طریق اخراجات میں کمی کرنے کا نہیں بلکہ جو قواعد چلے آتے ہیں اور مہمان نوازی کا جو دستور اب تک ہماری طرف سے ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے کمی کے متعلق مشورہ کیا جائے اور اگر کوئی ایک دوست یا ایک جماعت امید دلائے کہ قواعد کے مطابق عمل کرتے ہوئے وہ خرچ کم کر کے دکھا دے گی تو اُس سال انتظام اُن کے سپرد کر دیا جائے۔لیکن اگر جلسہ سالانہ کے اخراجات کم نہ ہوسکیں تب بھی اس سال چھپیں ہزار خرچ بتایا گیا ہے لیکن چندہ عام کی اس سال جو آمد ہوئی ہے وہ دو لاکھ دس ہزار ہے۔اس لحاظ سے چندہ جلسہ سالانہ پندرہ فیصدی کے حساب سے پینتالیس ہزار وصول ہونا چاہئے تھا۔میں مان سکتا ہوں کہ گزشتہ سے پیوستہ سال بیس ہزار روپیہ خرچ اور گزشتہ سال پچیس ہزار، مگر پچیس اور پینتالیس ہزار میں کوئی جوڑ نہیں۔پس جہاں میں سب کمیٹی