خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 287

خطابات شوری جلد دوم ۲۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء وو اس کا اظہار بھی کر چکا ہوں کہ چندہ جلسہ سالانہ کی اہمیت زمینداروں کے سامنے اگر پورے طور پر واضح کی جائے تو وہ اپنے ملکی رواج کے مطابق اسے مختلف رنگوں میں پورا کر سکتے ہیں۔آخر ہماری جماعت ان طبقوں سے ہی آئی ہے جو عُرس وغیرہ مناتے ہیں اور ہمارے ملک میں اہم چندہ وہی سمجھا جاتا ہے جو عُرس کے لئے کیا جائے اور گو جلسہ سالانہ اور عُرسوں میں کوئی نسبت نہیں لیکن ایک زمیندار جب جلسہ سالانہ کا نقشہ کھینچتا ہے تو عرس کا نقشہ ہی اس کے ذہن میں آتا ہے۔پس اگر اسی طریق سے زمینداروں سے چندہ وصول کیا جائے جس طرح عُرسوں کے موقع پر لوگ وصول کرتے ہیں تو بہت زیادہ آمد ہو سکتی ہے۔لیکن میرا خیال ہے آج تک اس امر کو واضح نہیں کیا گیا کہ ہر سال بقایا رہ جاتا ہے اور جلسہ کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔اگر یہ طے کر لیا جاتا کہ چندہ عام سے ہی جلسہ سالانہ کے اخراجات پورے کر لئے جائیں گے تو اس صورت میں بے شک چندہ جلسہ سالانہ کی تحریک کو ایک معمولی بات سمجھا جاتا اور کہا جاتا کہ اس کی ویسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں ” جاتے چور کی لنگوٹی ہی سہی مگر جہاں تک مجھے علم ہے چندہ جلسہ سالانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے ہی شروع ہے۔بعض دوستوں نے غلطی سے یہ سمجھا ہے کہ یہ چندہ عام کا ہی ایک حصہ ہے جسے الگ کر دیا گیا ہے حالانکہ مجھے ایک مثال بھی ایسی یاد نہیں جب چندہ جلسہ سالانہ کے لئے الگ تحریک نہ کی گئی ہو۔تو یہ چندہ نہایت ہی پرانے چندوں میں سے ہے۔اس کو اگر اچھے طور پر پیش کیا جاتا تو میں سمجھتا ہوں وصولی کے لحاظ سے وہ حالت نہ ہوتی جواب ہے۔میں ہمیشہ ناظر صاحب بیت المال سے یہ پوچھتا رہا ہوں کہ یہ پندرہ فیصدی چندہ کس نسبت سے مانگا جاتا ہے؟ مگر مجھے اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا اور میں سمجھتا ہوں اس چندہ کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں کسی پٹھان نے کہا ” جاٹ رے جاٹ تیرے سر پر کھاٹ۔“ یہ سن کر وہ کہنے لگا پٹھان رے پٹھان تیرے سر پر کولہو۔کسی نے پوچھا کہ