خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 15
خطابات شوری جلد دوم ۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء جس کی اہمیت کا اندازہ لگانا بھی انسانی طاقت سے باہر ہے۔اس کام کی ایک ایک شق ایسی ہے کہ اس کو سرانجام دینے کے لئے صدیوں تک جدوجہد کی ضرورت ہے۔ایک چیز پردہ ہی ہے۔کیا کوئی انسانی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ یورپ اور امریکہ اور ایشیا کی عورتیں کسی وقت گھروں میں بیٹھ جائیں گی اور اپنے چہروں پر نقاب ڈال لیں گی؟ اگر ہم اسی کام کے لئے کھڑے ہو جائیں جو ہمارے سارے کام کا کروڑواں حصہ بھی نہیں تو اسی کے لئے صدیوں جد و جہد کرنے کی ضرورت ہے۔پھر اگر ہم سُو دکومٹانے کے لئے کھڑے ہو جائیں تو کیا کوئی عقل یہ تسلیم کر سکتی ہے کہ یورپ اور امریکہ اور ایشیا سے ہم اسے مٹا سکتے ہیں؟ غرض ایک ایک اسلامی بات ایسی ہے کہ دُنیا سے اس کا منوانا انسانی عقل کے لحاظ سے ناممکن اور بالکل ناممکن ہے۔اگر کوئی خدا تعالیٰ کے وعدوں کو نظر انداز کر کے اس بات کے لئے ووٹ لے کہ کیا سود دُنیا سے مٹ جائے گا ؟ کیا تمام دنیا کی عورتوں میں پردہ رائج ہو جائے گا؟ تو سب سے پہلے اس کے خلاف ووٹ دینے والا میں ہوں گا۔خدا تعالیٰ ہی یہ تغیر لا سکتا ہے مگر یہ کام اُس نے ہمارے سپرد کیا ہے۔بیشک انجام اُسی کے ہاتھ میں ہے مگر جو یہ کام کریں گے وہ ہمارے ہی ہاتھ اور ہماری ہی زبانیں ہوں گی۔مگر کیا ہمارے ہاتھ اور زبانیں اس کوشش اور عمل میں اُسی قوت اور طاقت کے ساتھ لگی ہوئی ہیں جو اس کام کے لئے ضروری ہے؟ کیا ہم وہی چُستی ، وہی ہوشیاری ، وہی سرگرمی اور وہی سنجیدگی دکھا رہے ہیں جو ایسے موقع کے لئے ضروری ہے؟ اگر نہیں تو پھر میں جماعت سے پوچھتا ہوں آلم يَانِ لِلَّذِينَ آمَنُوا انْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللہ ساری دنیا کے مقابلہ میں اسلام کا تمدن اور ہے، اسلام کی تہذیب اور ہے، اسلام کا علم الاخلاق اور ہے، اسلام کی معاشرت اور ہے، اسلام کی اقتصادیات اور ہیں، اسلام کا پیش کردہ مذہب اور ہے غرض کوئی ایک چیز تو نہیں جس کا رونا ہے دُنیا سر سے لے کر پاؤں تک بگڑی ہوئی ہے اور اس کی اصلاح کے لئے عظیم الشان جد و جہد اور عظیم الشان قربانی کی ضرورت ہے۔دین سے بے توجہی کی بیماری جب تک ہم اس کام کی عظمت کو سمجھتے ہوئے کام نہ کریں گے کامیاب نہیں ہوسکیں گے لیکن جہاں تک مجھ پر اثر ہے اور مجھ پر اثر متعصبانہ نہیں ہو سکتا جو شخص ایک جماعت کا امام ہو اُس کے متعلق