خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 284
خطابات شوری جلد دوم ۲۸۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء وہ آمد بتانے سے ہی انکاری ہو تو اُس کے متعلق نصیحت اور تحریک کی صورت میں کوشش کی جائے۔“ اس بارہ میں چند نمائندگان نے اپنی آراء پیش کیں اور پھر ووٹ لئے گئے تو معلوم ہوا کہ غالب اکثریت سب کمیٹی کی تجویز کے حق میں ہے۔اس پر حضور نے فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: - فیصلہ میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔حلف ایسے مقام پر درحقیقت ایک غیر شرعی چیز ہے۔جس چیز پر ہمارے کام کی بنیاد ہے وہ یہ ہے کہ ایسے شخصوں کا یا تو ہم حساب لے سکیں یا ہم ان کی بات پر اعتبار کریں۔حساب لینا غیر شرعی نہیں۔زکوۃ میں حساب لیا جاتا ہے۔سوال صرف اتنا ہے کہ آیا حساب لینے کے ہمارے پاس سامان ہیں یا نہیں؟ اگر ہوں تو ہمیں ایسے ماہر انسپکٹر مقرر کرنے پڑیں گے جولوگوں کی آمد کی اچھی طرح جانچ پڑتال کریں اور پھر ممکن ہے کہ بعض کمزور طبائع اس سے ٹھوکر کھا جائیں۔تاجر طبقہ کی چندوں میں بے احتیاطی میں جہاں تک سمجھتا ہوں مجھ پر اثر یہ ہے کہ تاجر طبقہ چندوں میں اتنا محتاط نہیں جتنے محتاط دوسرے لوگ ہیں۔میں اس کے متعلق ارادہ رکھتا ہوں کہ بعض اور ذرائع کو استعمال میں لاکر ( بغیر ان طریقوں کے جن کو کمیٹی نے نا پسندیدہ قرار دیا ہے ) کوشش کی جائے کہ تاجروں کی آمدنیاں معلوم کی جائیں۔میری رائے اس وقت یہی ہے کہ تاجر چندوں کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں۔میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ گو میں نے کثرتِ رائے کو قبول کیا ہے لیکن میرے نزدیک اس کی تجویز کا حصہ درست نہیں ہے۔یعنی اس کی یہ تجویز کہ اگر تاجر اپنی آمد بتانے سے انکار کر دیں تو انہیں نصیحت اور تحریک کی جائے۔اس کے صرف یہ معنے ہوں گے کہ جو تنخواہ دار ہیں ہم سب بوجھ اُنہی پر ڈال دیں اور تاجر آرام سے بیٹھے رہیں۔پس حلف بے شک نا پسندیدہ ہے مگر کوئی وجہ نہ تھی کہ تاجر سے اتنا بھی نہ پوچھا جائے کہ اس کی آمد کتنی ہے اور وہ اتنی بات بتانے سے بھی انکار کر دے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوکاندار بعض دفعہ اپنا گاہک بتانا بھی پسند نہیں کرتا۔بعض دفعہ وہ یہ بھی نہیں بتاتا کہ فلاں چیز وہ کہاں سے خریدتا ہے اور کس بھاؤ خریدتا ہے۔بعض دفعہ وہ منڈی تک کا پتہ نہیں