خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 283

خطابات شوری جلد دوم ۲۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء پس یہ دونوں طریق (یعنی جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے ) جائز ہیں اور موقع کے لحاظ سے ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔بالواسطہ انتخاب امیر کے طریق سے بھی بعض فتنے پیدا ہو سکتے ہیں اور تفصیلی قواعد بناتے ہوئے ان باتوں کو مدنظر رکھنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے ابھی ۱۰۰ میں سے صرف ایک ہی جگہ کوئی فتنہ ہے۔پس بہتر تو یہی تھا کہ نظارت اس کی اصلاح کا انتظام کرتی۔مثلاً انتخاب کے لئے مرکز سے آدمی بھیج دیئے جاتے جو ہر ایک سے حلف لیتے کہ آزادانہ رائے دیں گے اور باقی جگہوں کے لئے کسی ایسے قاعدہ کی ضرورت نہ تھی مگر چونکہ کثرت سے دوستوں نے اس کی تائید میں رائے دی ہے اس لئے میں اسے منظور کر لیتا ہوں اور فیصلہ کرتا ہوں کہ :- فیصلہ و آئندہ امارت کے انتخاب کے لئے یہ قاعدہ ہوگا کہ جہاں چالیس ۴۰ یا اس سے زیادہ چندہ دہندہ ممبر ہوں وہاں کی جماعت کے امیر کا انتخاب بلا واسطہ نہ ہوگا بلکہ ایک مجلس انتخاب کے ذریعہ سے ہوگا۔جس کے ممبروں کو چندہ دہندگان حسب قواعد منتخب کیا کریں گے۔(اس کی بقیہ تفصیلات صدر انجمن احمد یہ طے کرے گی ) علاوہ ان ممبران مجلس منتخبہ کے تمام مقامی صحابی اور تمام چندہ دہندگان مقامی ممبر جن کی ساٹھ سال سے زائد عمر ہو اس انتخاب میں حصہ لینے کے حقدار ہوں گے۔“ تشخیص بجٹ نظارت بیت المال کی طرف سے یہ تجویز آئی کہ تشخیص بحجٹ اور تحصیل چندہ کے سلسلہ میں جن لوگوں کی آمد معین نہیں مثلاً دکاندار اور پیشہ ور وغیرہ، وہ یا تو اپنی آمد کا حساب دکھائیں یا پھر ان کی آمد کی تصدیق کے متعلق ان کا حلفیہ بیان لیا جایا کرے سب کمیٹی مجلس مشاورت نے اسے مناسب نہ سمجھا اور اس کی بجائے یہ تجویز پیش کی دو ہر چندہ دہندہ سے اُس کی آمد کے متعلق بے شک دریافت تو زیادہ کوشش اور تعین کے ساتھ کیا جائے مگر کسی حلف یا اقرار صالح کی ضرورت نہیں اور جہاں یہ محسوس ہو کہ کسی شخص نے اپنی آمد کم بتائی ہے یا