خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 282

خطابات شوری جلد دوم ۲۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء علم نہیں ہوتا اور ممکن ہوتا ہے کہ کوئی غلطی کر جائیں اس لئے یہ تجویز کی ہوئی ہے کہ ناموں کی تجویز تو اُن لوگوں سے کرائیں اور انتخاب خود کریں۔اور ہم نے یہ بھی قاعدہ رکھا ہوا ہے کہ امیر کے لئے کوئی جماعت صرف ایک آدمی کا نام نہ بھیجے بلکہ زیادہ نام بھیجے جائیں۔ابتدا ء ایسا ہی ہوتا تھا کہ مختلف نام بھیجے جاتے تھے جن میں سے ہم ایک کو منتخب کر دیا کرتے تھے مگر آہستہ آہستہ وہ بات نہ رہی اور صورت بدلتی چلی گئی جس کی ذمہ داری بہت حد تک ناظر اعلیٰ پر ہے جو قاعدہ کی پابندی پر اصرار نہیں کرتے۔خلافت کے انتخاب کا طریق خلافت کے انتخاب کے متعلق بھی کئی طریق ثابت ہیں۔ایک یہ کہ مرکزی جماعت کے موجودہ ممبر انتخاب کر لیں یا جماعت میں سے چند لوگ انتخاب کر لئے جائیں اور پھر وہ انتخاب کریں۔یا ایک خلیفہ دوسرے خلیفہ کو منتخب کر دے جیسے حضرت ابوبکر نے حضرت عمرہ کو کیا۔تو یہ مختلف طریق ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء سے ثابت ہیں۔اور آپ نے فرمایا ہے کہ عَلَيْكُمُ بِسُنَّتِي وَ سُنَّةِ خُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ اور قرآن کریم نے صحابہ کو نجوم قرار دیا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اَصْحَابِی كَالنُّجُوْمِ بِآتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ جو لوگ حقیقی طور پر صحابہ ہیں منافق نہیں وہ سب ستاروں کی طرح ہیں جس کی چاہو پیروی کرو ہدایت ہی ملے گی۔اور صحابہ سے یہ سارے طریق ثابت ہیں۔اس واسطے ہمارے لئے گنجائش ہے کہ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے جو مناسب سمجھیں اختیار کر لیں۔مگر یہ ضروری ہے کہ پبلک کی مرضی کا خیال رکھا جائے اور اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے موجودہ طریق رکھا ہوا ہے۔ایک زمانہ میں سب کی رائے لی جاسکتی ہے اور پھر ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب سب کی رائے لی ہی نہ جاسکے۔جیسے ہم امید رکھتے ہیں کہ احمدیت ساری دنیا میں پھیل جائے گی اُس وقت اگر سب کی رائے لینے کے طریق پر عمل کیا جائے تو ممکن ہے سال دو سال تک کوئی خلیفہ ہی نہ ہو اور یا پھر بنو عباس والا طریق ہو جو بالآخر انسان کی تباہی کا باعث ہوا تھا۔تمام مسلم و غیر مسلم مورخ اس امر پر متفق ہیں کہ ان کی تباہی کا موجب یہی بات ہوئی کہ وہ ایک خلیفہ کے وقت میں ہی دوسرا مقرر کر دیتے تھے جو خلاف اسلام بھی تھا اور خلاف مصلحت بھی۔