خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 279
۲۷۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم پر اس کی ضرورت سمجھی گئی ہے وہ کوئی ایسی فیصلہ کن مثالیں نہیں ہیں کہ ان کے پیش نظر یہ یقین کیا جا سکے کہ انتخاب با لواسطہ ضرور مفید ہو گا۔اس وقت صرف دو ایسی جماعتیں ہیں جن میں امراء کے انتخاب کے مسئلہ پر اختلاف ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ تجویز اُن دونوں جگہوں پر ہی فساد کو تیز کرنے والی ہوگی کیونکہ وہاں کوئی ایسا آدمی نہیں جس کی ذاتی بڑائی دینی یا دنیوی لحاظ سے دوسروں کو مرعوب کر سکے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم زیادہ کام کرسکیں گے۔یہاں کوئی تنخواہ وغیرہ تو ملتی نہیں۔پس یہی ایک رستہ ہے جس سے شیطان ور غلا سکتا ہے اور کہتا ہے کہ شاباش ! ہمت کرو، قوم کی زندگی تمہیں سے وابستہ ہے۔اور یہ تجویز ایسے وہموں کا خاطر خواہ انسداد نہیں کر سکتی اس لئے میں اسے کوئی مؤثر چیز نہیں سمجھتا۔مگر چونکہ کثرتِ رائے اس کے حق میں ہے اس لئے اسے منظور کرتا ہوں اور فیصلہ کرتا ہوں کہ جن جماعتوں میں چالیس سے زیادہ چندہ دہندہ افراد ہوں ان کی ایک مجلس انتخاب چنی جائے (جس کے لئے قواعد صدرانجمن احمد یہ تجویز کرے) اور وہ مجلس انتخاب امیر کا انتخاب کیا کرے۔دوران سال میں یہ امر میرے مدنظر رہے گا بلکہ اگر ضرورت ہوئی تو آئندہ سال بھی۔پھر جن جماعتوں میں جھگڑے وغیرہ ہوتے ہیں ان کو بھی میں مدنظر رکھوں گا اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو پھر اس پر غور کر لیا جائے گا۔ایک زمیندار دوست نے کہا ہے کہ جب خلیفہ نے ہی آخری منظوری دینی ہے تو پھر انجمن کی طرف سے نامزدگی کی کیا ضرورت ہے؟ میرے نزدیک بھی یہ بات صحیح ہے اگر انجمن کو کوئی اعتراض ہو تو اسے خلیفہ وقت کے سامنے پیش کر سکتی ہے۔جو بات بہر حال ہماری منظوری سے ہونی ہو، اُس میں اس قسم کی بیخ کی ضرورت نہیں۔ہاں ایک قسم کی نامزدگی ہے جسے کسی صورت میں بھی نظرا نداز کرنا جائز نہیں اور وہ یہ کہ ایسی جگہ پر جتنے صحابی ہوں گے وہ سب اُس مجلس کے ممبر ہوں گے۔اُن میں سے اگر کوئی انتخاب میں آجائیں تو وہ انتخاب کے حق سے ممبر ہوں گے لیکن جو صحابی منتخب نہ ہوں وہ بھی اُس مجلس کے ممبر بہ حیثیت صحابی کے ہوں گے۔فرض کرو کہ کسی جماعت میں دس صحابی ہیں۔ان میں سے پانچ منتخب ہو گئے ہیں، باقی پانچ بھی اُس مجلس کے ممبر ہو جائیں گے گویا وہ دس کے دس صحابی ہی ممبر ہوں گے۔