خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 280

خطابات شوری جلد دوم ۲۸۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء دوسری تبدیلی میں یہ کرنی چاہتا ہوں کہ ساٹھ سال سے اوپر کے چندہ دینے والے احمدی بھی سب کے سب بطور حق اس مجلس انتخاب کے ممبر ہوں گے“۔جو احمدی کسی جگہ ساٹھ سال سے زائد عمر کے ہوں وہ بھی اس مجلس کے ممبر سمجھے جائیں گے کیونکہ اس عمر کے لوگ تجربہ کار ہوتے ہیں اور ان کی رائے سلجھی ہوئی ہوتی ہے اس لئے ان کی رائے سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔بوڑھوں کی رائے ہمیشہ مفید ہوتی ہے۔بچپن میں ایک کہانی سنا کرتے تھے کہ کسی راجہ کی لڑکی سے دوسرے راجہ کے لڑکے کی شادی قرار پا گئی مگر لڑ کی کا والد رشتہ پسند نہ کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ کسی نہ کسی آڑ میں انکار کر دے۔چنانچہ اُس نے پہلے یہ شرط پیش کی کہ بارات کے ساتھ بوڑھا کوئی نہ آئے لیکن بوڑھے وزیر نے کہا کہ مجھے صندوق میں بند کر کے ضرور ساتھ لے چلو تمہیں فائدہ ہوگا۔جب بارات وہاں پہنچی تو لڑکی والوں نے یہ شرط پیش کر دی کہ ہر برائی کو ایک سالم بکرا کھانا پڑے گا۔بوڑھے وزیر نے مشورہ دیا کہ ہم کھائیں گے مگر بکرا ایک ایک کر کے لایا جائے اور ظاہر ہے کہ ہزار آدمیوں کو ایک بکرا کی بوٹی بوٹی بھی نہیں آ سکتی تھی۔اس قصہ کا سبق یہ ہے کہ بعض فوائد بوڑھے آدمیوں کی رائے سے بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔دوسرے اس طرح بڑھاپے کی عزت بھی قائم رہے گی۔پس ان دو تر میموں کے ساتھ میں اس تجویز کو منظور کرتا ہوں کیونکہ کثرتِ رائے اِس کے ساتھ ہے۔اس بحث کے دوران میں ایک یہ سوال بھی زیر بحث آیا ہے کہ شریعت اس بارہ میں کیا کہتی ہے۔اس کے لئے میں نے بعض علماء سے بھی دریافت کیا اور اُنہوں نے اپنے خیالات ظاہر کئے ہیں۔اصولی طور پر اس کے متعلق میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ امارت کے لفظ سے بعض لوگ دھوکا کھاتے ہیں۔عربوں میں یہ لفظ قومی سردار کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، چاہے وہ نظامِ حکومت کے لحاظ سے کوئی حیثیت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔اس کے علاوہ امیر کے معنے یہ بھی ہیں کہ وہ شخص جو افراد اور مرکز کے مابین واسطہ ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں کوئی ایسی مثال ہمیں نہیں ملتی کہ مافي الذکر امیر کا لوگوں نے انتخاب کیا ہو۔ایسے امیر ہمیشہ مقرر ہی ہوتے رہے۔ہاں یہ ضرور مدنظر رکھا جاتا تھا کہ اس تقریر میں لوگوں کی مرضی کا دخل ہو۔لوگ کسی کے تقرر پر اعتراض کر دیتے تو بعض دفعہ