خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 276
۲۷۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم آراد النَّبِيُّ أَن يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ یعنی صرف حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی شان ہے کہ کوئی عورت اپنے آپ کو بطور ہبہ پیش کرے کیونکہ اس میں اُس عورت کی کوئی کسر شان نہیں۔دوسرے لوگوں کو شریعت اجازت نہیں دیتی کہ لڑکی پیش کریں بلکہ لڑکے والوں کو رشتہ طلب کرنا چاہئے۔اگر لڑکی والالڑ کی پیش کرے گا تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ ایک سائل کی حیثیت میں آیا ہے۔الغرض تعلیم کے معاملہ میں نہایت احتیاط کی ضرورت ہے اور یہ وہ نقائص ہیں جن کا دور کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ایک سوال یہ اُٹھایا گیا ہے کہ اگر یہ حد بندی اُڑا دی جائے تو قومیت کا سوال ہمارے سامنے پھر آ جائے گا اور لوگ اپنی قوم کی لڑکیوں کی تلاش میں لگ جائیں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ قیود کی وجہ سے قومی تعصب کم ہو رہا ہے اور اس کی بیسیوں نظائر ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک وقت میں ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں سید ہوں، کوئی سید لڑکا تلاش کر دیں۔جب سید رشتہ نہیں ملتا تو پھر کچھ مدت کے بعد وہی شخص کہتا ہے کہ اچھا قریشی ہی سہی۔جب وہ بھی نہیں ملتا تو اور چھ ماہ بعد وہ کہنے لگتا ہے کہ اچھا کوئی مغل یا پٹھان ہی مل جائے۔اگر وہ بھی نہیں ملتے تو آخر کہہ دیتے ہیں کہ احمدیت کا سوال ہے اس لئے اب ہم کوئی شرط نہیں کرتے۔تو یہ درست ہے کہ ان قیود نے قومیت کے ناجائز تعصب کو بہت حد تک احمدیوں سے اُڑا دیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اب ہمارے تعلقات محدود ہو رہے ہیں۔جب غیر احمد یوں سے رشتہ داری کے تعلقات تھے تو تبلیغ کا میدان کُھلا تھا اور لوگ کثرت سے احمدی بنتے تھے۔مگر جب سے حد بندیاں قائم کی جا رہی ہیں، تبلیغ کا میدان تنگ ہو رہا ہے۔جولوگ پہلے احمدی ہوئے وہ تو اپنے خاندانوں کو احمدی بنا چکے ہیں اور جو نئے آتے ہیں وہ اکیلے وکیلے آتے ہیں اور حد بندیوں کی وجہ سے آئندہ نئے تعلقات قائم نہیں ہو سکتے۔تو یہ بھی ایک سوال ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا محکمہ ہو جو اس کام کو اچھی طرح چلائے اور ایسے رشتوں کی اجازت دے جس سے تبلیغ کا میدان وسیع ہو تو یہ فائدہ مند ہو گا۔اب اُن کو اجازت ملتی ہے جن کو احمد یوں میں رشتہ نہیں ملتا اور زیادہ حصہ انہی لوگوں کا ہے اِس سے اُتر کر ان لوگوں کو اجازت ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ اجازت سے